کیا امریکا وایکنگز نے دریافت کیا؟

لاہور: (روزنامہ دنیا) کیا امریکا وایکنگز نے دریافت کیا؟ اس سوال کی تہیں کھولنے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ’’دریافت‘‘ کے یورپی تناظر میں گڑبڑ ہے۔ اس میں مقامی لوگوں کے بجائے بحری جہازوں پر سوار لوگوں کے نقطۂ نظر سے ’’نئی دنیا‘‘ کو دیکھا جاتا ہے، جبکہ مقامی لوگوں کے لیے تو وہ ان کا گھر ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے تو امریکا کو ایشیا کے شکاری باشندوں نے دریافت کیا تھا۔


ان کے بارے میں تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ وہ سائبیریا کے راستے پیدل الاسکا سے ہوتے ہوئے امریکا میں پھیل گئے۔ یہ سفر انہوں نے روس اور امریکا کے درمیان ’’آبنائے بیرنگ‘‘ سے ماضی میں آنے والے برفانی دور میں طے کیا۔ دورِ حاضر میں سمندر میں ڈوبے اس راستے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس وقت یہاں سے پیدل گزرا جا سکتا تھا۔ ایک اور خیال یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ کشتیوں پر آئے اور جنوب کی جانب ساحل کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے گئے۔ جو بھی ہوا، یہ لوگ 13 سے 35 ہزار برس قبل پہنچے، اتنا عرصہ قبل کہ ان کی اولادیں مقامی امریکی کہلاتی ہیں۔

سوال کو ایک اور طرح سے پیش کرتے ہیں۔ کیا وایکنگز، جو سکینڈے نیویا کے باشندے تھے، پہلے غیر مقامی تھے جو امریکا پہنچے؟ جواب کا تعلق اس امر سے ہے کہ ہم امریکا کسے کہتے ہیں۔ اگر اس کے معنی وسیع تر ہیں، یعنی اس میں شمالی اور جنوبی امریکا دونوں شامل ہیں، تو امکان یہ ہے کہ پولینیشیائی یہاں سب سے پہلے پہنچے۔ امریکا کے مقامی پودے شکر قندی کے جینیاتی تجزیے سے سائنس دانوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ پولینیشیائی کھوجیوں کا سب سے پہلے جنوبی امریکا سے تعلق قائم ہوا اور وہ اپنے ساتھ شکرقندی جنوب مشرقی ایشیا اور جزائرِ بحرالکاہل لائے۔

سکالرز کا خیال ہے ایسا کرسٹوفر کولمبس کے دور سے قبل ہوا، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ آیا یہ وایکنگز کے شمالی امریکا کے دورے سے پہلے ہوا یا نہیں۔ کیا وایکنگز سب سے پہلے یورپی تھے جو امریکا پہنچے، اس سوال نے وایکنگز بمقابلہ کولمبس بحث کا آغاز کیا۔ لیکن پہلے سینٹ برینڈان کے طلسماتی سفر کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔ ایک رزمیہ نظم ’’وایج آف سینٹ برینڈان دی ایبٹ‘‘ کے مطابق ساتویں صدی میں گھومنے پھرنے والے ایک آئرش راہب اور اس کے بھائی بندوں نے پیالے کی شکل کی ایک کشتی (جسے curragh کہا جاتا ہے) میں بحراوقیانوس پار کیا اور دوسری جانب وقت گزارا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ شمالی امریکا پہنچے۔

دورِ حاضر کے تجربات سے ثابت ہوتا ہے curragh پر بحرِ اوقیانوس کے پار جانا ممکن ہے، لیکن اس سفر کا کوئی آثاریاتی ثبوت نہیں ملتا۔ اس لیے معاملہ کولمبس اور وایکنگز کے درمیان ہی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ 1492ء میں اطالوی جہاز راں کرسٹوفر کولمبس کی سربراہی میں اور ہسپانیہ کی معاونت سے، تین بحری جہازوں کا فلوٹیلا ایشیا کے مختصر راستے کی تلاش میں امریکا جا پہنچا۔ وہ غالباً جزیرہ گواناہانی پہنچا۔ ایک اور اطالوی جہاز ران جان کیبٹ برطانیہ سے روانہ ہوا اور کینیڈا جا پہنچا، لیکن یہ 1497ء سے قبل کا واقعہ نہیں، یعنی کولمبس کے بعد۔ کولمبس کے پہنچنے کے نتیجے میں چار سو یہ اعلان کر دیا گیا کہ امریکا ’’دریافت‘‘ ہو چکا ہے۔ اس دعوے کی مخالفت میں وایکنگز کے وین لینڈ نامی مقام پر سفروں کو پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا ذکر عہد وسطیٰ کی رزمیہ داستانوں میں ملتا ہے۔ ’’گرین لینڈز کی رزمیہ داستان‘‘ کے مطابق بارنی ہرگولفسن پہلا یورپی تھا جس نے شمالی امریکا کے خطے کو دیکھا۔

گرین لینڈ آنے والا یہ جہاز 985ء کے لگ بھگ ہواؤں کی وجہ سے مغربی جانب مڑ گیا۔ مزید برآں 1000ء کے لگ بھگ لیف ایرکسن، جو ایرک دی ریڈ کا بیٹا تھا، اس سرزمین کو تلاش کرنے نکل کھڑا ہوا جسے بارنی نے دیکھا تھا۔ اسے ایک برفانی بے آباد جگہ ملی جسے اس نے ’’ہیلولینڈ‘‘ کا نام دیا، جس کے معنی تھے کہ سیدھی چٹان والی سرزمین۔ اس کے بعد اس نے جنوب کی طرف سفر کیا جہاں اسے ’’وین لینڈ‘‘ (وائن کی سرزمین) ملی۔ پھر لیف کے بھائیوں کے بعد تاجر تھورفین کارل سیفنی کی سربراہی میں ایک مہم ’’وین لینڈ‘‘ پہنچی جہاں یہ لوگ تین سال رہے۔ ’’ایرک دی ریڈ ساگا‘‘ میں لیف کے حادثاتی طور پر وین لینڈ کو دریافت کرنے کے ذکر کے ساتھ تھور فین اور اس کی بیوی گوڈریڈ کو دیگر مہمات کا کریڈٹ دیا گیا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎