ملک میں توانائی کے بحران کی ذمہ دار کیا ماضی کی حکومت ہے؟: وزیر پٹرولیم

وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور کہتے ہیں کہ ماضی میں حکومت نے پاکستان میں گیس کے ذخائر ہونے کے باجود ایران، روس اور قطر کے ساتھ معاہدے کیے، بہتر ہوتا کہ ملک میں موجود ذخائر سے استفادہ کیا جاتا۔


چکری میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں اس وقت توانائی کا بحران ہے، تیل کی صرف پندرہ فیصد پیداوار مقامی ہے جبکہ ضروریات پوری کرنے کیلئے 85 فیصد تیل درآمد کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تیل کی سالانہ درآمد کا بل سولہ ارب ڈالر ہے، یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر سرمایہ تیل کی ضروریات پوری کرنے میں خرچ ہوجاتا ہے۔

غلام سرور خان نے کہا کہ معاشی بحران سے نکلنے کےلیے پٹرولیم سیکٹر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، سو دن معاملات کو سمجھنے میں لگ گئے، ان سو دنوں میں کوئی تیل کا کنواں نہیں لایا جا سکتا تھا۔

فاقی وزیر نے کہا گزشتہ پانچ سالوں سے کوئی بڈنگ نہیں ہوئی اور ہم نے آتے ہی دس بلاکس پر بڈنگ کروائی، بین الاقومی کمپنیوں کو پاکستان لانے کےلیے پیٹرولیم پالیسی میں بہتری لانے کےلئے بھی اقدامات کر رہے ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎