پی ٹی آئی کی حکومت نے وہ کام کر دیا جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے نہیں ہوا

اسلام آباد: پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایوان صدر کو عوام کے لیے کھول دیا گیا، جو حکومت کے سرکاری عمارتوں تک عوام کی رسائی کے منصوبے کا حصہ ہے۔


اس سے قبل پاکستانی تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے گورنر ہاوسز جبکہ مری میں قائم سرکاری ریسٹ ہاؤس کو عوام کے لیے کھولا تھا۔

اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ 'ہم نے ایوان صدر میں عوام کو بھرپور سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایوان صدر کو مہینے میں 2 مرتبہ کھولیں گے اور ساتھ ہی کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو ہدایت کریں گے کہ وہ ایوان صدر سے منسلک پارک کو بھی کھولیں۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ تاریخی دستاویزات، قائد اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان سے تعلق رکھنے والی اشیاء کو ایوان صدر میں عوام کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم پارلیمنٹ سے درخواست کریں گے کہ ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے دستخط شدہ 1973 کے آئین کی دستاویز کو بھی ایوان صدر میں پیش کرنے کے لیے فراہم کریں'۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 70 سال سے ایوان صدر اور عوام کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایوان صدر کو اسکول اور کالجز کے طالب علموں کے لیے بھی کھولا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں صدر مملکت عارف علوی نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ایوان صدر کو اس لیے کھولا جارہا ہے کہ حکومت درپیش مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایوان صدر کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

اس سے قبل راولپنڈی اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے ایوان صدر کا دورہ کیا۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے ان شہریوں نے ایوان صدر کو عوام کے لیے کھولنے کے حکومتی اقدام کو سراہا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎