خورشید شاہ نے آمریت کے دور کا انکشاف کر دیا مگر کیوں؟

آرڈیننس کے ذریعے آمریت کے دور میں حکومت چلائی جاتی ہے، آرڈیننس کے اجرا پر حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے گا، رہنما پیپلز پارٹی۔ فوٹو: فائل


لاہور: پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی آرڈیننس کے ذریعے حکومت چلانے کی بھرپور مخالفت کرے گی اور وزیراعظم کے بیانات سے لگتا ہے کہ آمریت کے سائے منڈلا رہے ہیں۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت آرڈیننس کے ذریعے معاملات چلانے اور پارلیمنٹ میں لڑائی سے گریز کرے، آرڈیننس کے ذریعے آمریت کے دور میں حکومت چلائی جاتی ہے، لگتا ہے کہ حکومت آمریت کا نعم البدل بن رہی ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ملکی مفاد میں قانون سازی کے لیے پیپلز پارٹی حکومت کی حمایت پر تیار ہے، اپوزیشن میثاق معیشت کے لیے حکومت سے تعاون کو تیار ہے اور حکومت آئینی بلوں پر مشاورت کرے پارلیمنٹ میں مکمل تعاون کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پارلیمانی نظام پر یقین رکھتی ہے، آرڈیننس کے اجرا پر حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے گا۔

خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نظام اور روایات کے ساتھ کھڑی ہے، امید ہے حکومت خود سے قائمہ کمیٹیاں بنانے والی بے وقوفی نہیں کرے گی اور پیپلز پارٹی روایت پر عملدرآمد تک قائمہ کمیٹیوں کا حصہ نہیں بنے گی۔

تحریک انصاف کی 100 روزہ کارکردگی پر خورشید شاہ نے کہا حکومت نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور روزہ کارکردگی میں مرغی نے انڈے دیے ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎