حمزہ شہباز کا نام ای سی ایل میں نہ ہونے کے باوجود انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت کیوں نہ ملی؟ساری کہانی سامنے آ گئی

سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے انکشاف کیاکہ حمزہ شہباز کانام ای سی ایل میں شامل نہیں۔سینیٹ کمیٹی کا اجلاس مصطفی نواز کھوکھر کی سربراہی میں ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر شیریں مزاری دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کے انسداد تشدد بل پر غور کیا گیا۔


شیریں مزاری نے کہا کہ حکومت نے اس بل کو دوبارہ اٹھایاہے اور اس میں ضروری ترامیم کر کے اسکو کابینہ سے منظور کراکر قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔کمیٹی نے ایک ماہ میں بل مکمل کر کے اسمبلی میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔ اجلاس میںای سی ایل میں نام شامل کروانے کا معاملہ بھی زیر غور آیا، مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ای سی ایل میں نام شامل کرنے کے حوالے سے بہت سی بے ضابطگیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ایم این اے محسن داوڑ اورعلی وزیر کا نام بغیر کسی نوٹس کے ای سی ایل میں ڈال دیاگیا۔ عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے روکا جا رہا ہے۔ اپوزیشن لیڈرپنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو بھی جہاز سے آف لوڈ کر دیا گیا اور بتایا گیاکہ انکانام ای سی ایل میں شامل ہے۔ اس حوالے سے وضاحت کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ طارق سردارنے بتایاکہ حمزہ شہباز کانام ای سی ایل میں شامل نہیں۔اس پرکمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگر انکانام ای سی ایل میں شامل نہیں تھاتو ان کو سفر کرنے سے کیوں روکاگیا۔ایڈیشنل سیکریٹری نے کہاکہ ای سی ایل کے علاوہ ایک اور لسٹ بھی ہے جس کو پی این آئی ایل کہا جاتا ہے جس کو ڈی جی ایف آئی اے بناتے ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎