حکومت نے اپوزیشن کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے

وزیراعظم نے کہا اگراپوزیشن ضد پر قائم ہے تو حکومت پیچھے ہٹ جاتی ہے، ہمیں اس معاملے کو ضد اور انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے، وزیر خارجہ۔ فوٹو: فائل


اسلام آباد: حکومت نے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی نامزدگی کا اختیار اپوزیشن لیڈر کو دے دیا جب کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ حکومت نے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا، ہمیں اس معاملے کو ضد اور انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے آگے بڑھنا چاہیے۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ اگر اپوزیشن ضد پر قائم ہے تو حکومت پیچھے ہٹ جاتی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حزب اختلاف کے موجودہ سربراہ نیب کیسز سے دو چار ہیں، انہیں جس پر اعتماد ہو اس کا نام لیں حکومت مان جائے گی، چیئرمین پی اے سی قائد حزب اختلاف کے علاوہ کسی اور کو بنانے کی بھی روایت ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عوام کے لیے چار پانچ بہت اہم قوانین کو ایوان میں پیش کرنا چاہتے ہیں، قائمہ کمیٹیاں وجود میں آئیں گی تو پارلیمنٹ فنکشنل ہوگی، ایسا راستہ نکالا جائے کہ قائمہ کمیٹیاں بن سکیں جو جمہوریت کی ضرورت ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نیب کا اس ایوان سے کوئی تعلق نہیں، یہ سوچ جمہوریت کے لیے نقصان دہ اور عوام کے مفاد میں نہیں، ہمیں تلخیاں بڑھانی نہیں کم کرنی ہیں۔

ایوان میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شاہ محمود کی بات حقائق کا منہ چڑانے کے مترادف ہے، نیب اور پی ٹی آئی کا چولی د امن کا ساتھ ہے، اندھا بھی دیکھ سکتا ہے کہ احتساب کا عمل کس طرح اپوزیشن کے خلاف دن رات جاری ہے۔

شہباز شریف نے کہا آشیانہ ہاوسنگ اسکینڈل میں آدھے پیسے کی کرپشن بھی ثابت ہوگئی تو سیاست چھوڑ دوں گا، ابھی تک تو میرے خلاف نیب کا ریفرنس داخل نہیں ہوا جو وہ ضرور کریں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ آشیانہ ہاوسنگ اسکینڈل کی تحقیقات رواں برس جنوری میں شروع ہوئیں، میں نے کئی پیشیاں بھگتیں، پرویز خٹک کےخلاف مالم جبہ کے ریزارٹ کی تحقیقات بھی ساتھ شروع ہوئیں لیکن کسی کو چیونٹی بھی نہیں کاٹی جب کہ عمران خان نیازی پر ہیلی کاپٹر کیس میں نیب کا سایہ دن رات منڈلاتا ہے۔

شہباز شریف نے کہا متحدہ اپوزیشن نے چیئرمین پی اے سی کے لیے میرا نام تجویز کیا تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎