چیف جسٹس نے نجی سکولوں کی فیس کے متعلق کیس کا بڑا فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے 5 ہزار روپے سے زائد فیس لینے والے نجی اسکولوں کو فیس میں 20 فیصد کمی کرنے اور 2 ماہ کی چھٹیوں کی فیس کا 50 فیصد والدین کو واپس کرنے کا حکم دے دیا۔


سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نجی اسکولوں کی زائد فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس سلسلے میں نجی اسکولوں کے وکیل، ڈپٹی آڈیٹر جنرل اور چیئرمین ایف بی آر عدالت میں پیش ہوئے۔

سپریم کورٹ نےنجی اسکولوں کی فیسوں میں اضافے کے خلاف عبوری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ نجی اسکول ان گرمیوں میں لی گئی فیس کا آدھا 2ماہ میں واپس کریں یا ایڈجسٹ کریں۔

اس موقع پر بیکن ہاؤس کے وکیل نے کہا کہ ہر اسکول کی فیس اور سالانہ اضافہ مختلف ہے، پنجاب کے سابق وزیر تعلیم نے سالانہ 10 فیصد اضافے کا قانون بنانے کا کہا اور رانا مشہود اسمبلی سے صرف 8 فیصد کی منظوری لے سکے۔

عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق نجی اسکول سالانہ 5فیصد سےز ائد اضافہ نہیں کرسکیں گے اور اگر پانچ فیصد سےز ائد اضافہ کرناہواتو ریگولیٹری باڈی سے اجازت لیں۔

عدالت نے چیئرمین ایف بی آر کو تمام اسکولوں کے ٹیکس ریکارڈ کی پڑتال کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ کوئی اسکول بند نہ کیاجائے ایسا ہواتو کارروائی کی جائےگی۔

سپریم کورٹ نے بائیس نجی اسکولوں کےاکاؤنٹس اور لیجر قبضے میں لینے کا بھی حکم دیا ہے۔

دورانِ سماعت نجی اسکول کی وکیل عائشہ حامد نےکہا کہ تمام اسکول 8 فیصد فیس کم کرنے کو تیار ہیں، اس پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ 8 فیصد تو اونٹ کے منہ میں زیرے والی بات ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎