چین میں کینیڈا کے سابق سفیر کی گرفتاری کے بعد کاروبای شخصیت بھی زیر حراست

.چین میں قومی لاپتہ ہونے والے دوسرے کینیڈین شہری کو مبینہ طور پر ’چین کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں ملوث‘ ہونے کے الزام میں تحقیقات کا سامنا ہے۔


واضح رہے کہ انٹرنیشنل کرائسز گروپ تھنک ٹینک کے ملازم کے مطابق پیر کو بیجنگ میں چینی سیکیورٹی اداروں نے سابق کینیڈین سفارتکار مائیکل کوورگ کو بھی حراست میں لیا تھا۔

اس حوالے سے چین کے مقامی اخبار بیجنگ نیوز نے بدھ کو رپورٹ کیا تھا کہ مائیکل کوورگ ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھے جو چین کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی تھیں۔

واضح رہے کہ چین میں 2 کینیڈین شہریوں سے تفتیش اس وقت سامنے آئی جب کچھ روز قبل واشنگٹن کی درخواست پر اوتاوا نے چین کی بڑی ٹیلی کام کمپنی ہواوے کی چیف فنانشل آفیسر مینگ وانزہو کو گرفتار کیا تھا۔

تاہم منگل کو کینیڈا کے شہر وان کوور کی عدالت نے 75 لاکھ ڈالر کے عوض ان کی ضمانت منظور کی تھی۔

کینیڈا کی حکومت نے کہا تھا کہ انہوں نے ہواوے کیس میں کوئی واضح لنک نہیں دیکھا۔

دوسری جانب کینیڈا کی وزیر خارجہ کرسٹیا فری لینڈ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ چین میں کینیڈا کا دوسرا شہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ جب سے مائیکل اسپاور سے رابطے میں نہیں جب سے انہوں نے حکومت کو بتایا تھا کہ چینی انتظامیہ نے اس سے سوال جواب کیے۔

اس حوالے سے کینیڈا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مائیکل اسپاور چینکے شمالی شہر ڈینڈونگ میں کام کرنے والے کاروبای شخص ہیں اور وہ جنوبی کوریا کے ساتھ ثقافتی تبادلے کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا مائیکل اسپاور کا پتہ لگانے کے لیے سخت کوششیں کر رہا ہے اور اس معاملے کو چینی حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے۔

واضح رہے کہ اسپاور ایک چینی اور برطانوی بنیاد پر غیرمنافع بخش سماجی انٹرپرائز ہے۔

اس گروپ کا اپنی ویب سائٹ پر کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ ’پائیدار تعاون، ثقافتی تبادلے، سرگرمیوں، تجارت اور سرمایہ کاری کی سہولیات کے لیے وقف ہے‘۔

ادارے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ شمالی کوریا کہ ساتھ ’رابطوں کو برقرار‘ رکھتا ہے اور یہ’غیر سیاسی‘ ہوتے ہیں۔

مائیکل اسپاور کی بات کی جائے تو انہوں نے امریکا کی نیشنل باسکٹ ایسوسی ایشن کے سابق اسٹار ڈینس روڈمین کے شمالی کوریا کے دورے کے دوران بطور مترجم اور سہولت کار کے فرائض انجام دیے تھے۔

اس کے علاوہ 2013 میں جیٹ اسکنگ سے واپسی کے بعد ایک نجی کشتی پر شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے گفتگو بھی کی تھی۔

ادھر مائیکل کوورگ کے معاملے پر چینی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر وہ چین میں آئی سی جی کے لیے کام کرتے جو رجسٹرڈ نہیں تو ہوسکتا ہے غیر سرکاری تنظیم کے انتظام پر چین کے قوانین کو توڑ دیا ہو۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎