پاکستان نے 6 ماہ میں 3 ہزار اکاؤنٹس رپورٹ کیے، ٹوئٹر

 پاکستانی حکام کی جانب سے ٹوئٹر کو مبینہ طور پر ’نفرت آمیز مواد پھیلانے‘ اور ’تشدد پر ابھارنے‘ کے الزامات پر رواں سال گزشتہ 6 ماہ میں 3 ہزار اکاؤنٹس رپورٹ کیے گئے۔


گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی جانب سے جاری ہونے والی ششماہی رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری سے جون تک حکومت نے 246 اکاؤنٹس اور 3 ہزار 4 پروفائلز رپورٹ کی تھیں۔

مخصوص پروفائلز کی بات کی جائے تو ٹوئٹر نے اپنے ٹرمز آف سروسز (ٹی او ایس) کی خلاف ورزی پر 141 اکاؤنٹس پر شیئر کیے گئے چند مواد کو ہٹایا تھا۔

گزشتہ سال جولائی سے دسمبر کے دوران پاکستان نے 674 اکاؤنٹس رپورٹ کیے تھے۔

حیرت انگیز طور پر گزشتہ سال کے بر عکس جہاں تمام درخواستیں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بھیجی گئی تھیں، رواں سال 3 درخواستیں عدالتی احکامات پر بھی بھیجی گئیں۔

اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے پاکستان نے 22 درخواستیں بھیجیں 54 کی نشاندہی کی جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد بالترتیب 24 اور 25 رہی تھی۔

تاہم ٹوئٹر نے تمام اکاؤنٹ کی معلومات حاصل کرنے کے لیے یا ہٹانے کے لیے دی گئی درخواستیں مسترد کردیں۔

حکومت کی جانب سے رپورٹ کیے گئے مواد پر کارروائی نہ کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے ٹوئٹر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں پاکستانی حکومت کی جانب سے پری وینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ (پی ای سی اے) کی خلاف ورزی کے حوالے سے 79 ٹویٹس کے مطالبات موصول ہوئے، ان میں سے زیادہ تر ٹویٹس توہین مذہب (گستاخانہ خاکوں) پر مشتمل تھے، رپورٹ کیے گئے یہ ٹویٹس ہماری ٹی او ایس کے خلاف نہیں اس لیے ہم نے کوئی کارروائی نہیں کی‘۔

پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ڈائریکٹر جنرل برائے انٹرنیٹ پالیسی نثار احمد کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم بھارت اور دیگر ممالک سے ٹوئٹر کا تعاون دیکھا جائے تو ٹوئٹر نے ان حکام کو مثبت جوابات دیے ہیں تاہم جہاں بات پاکستان کی ہو، ٹوئٹر ریاست کا مفاد نہیں دیکھتا‘۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں صرف پی ٹی اے کو ٹوئٹر کو رپورٹ کرنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ عوام کے علاوہ ایف آئی اے، قانون نافذ کرنے والے اداروں، وزارتوں اور تمام صوبوں کی وزارت داخلہ کی جانب سے ہمیں 30 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں حکام نے حکومتی درخواستوں پر عمل در آمد نہ کرنے پر پاکستان میں ٹوئٹر کو بند کرنے کا کہا تھا۔

اس حوالے سے نثار احمد کا کہنا تھا کہ ’ٹوئٹر کو چاہیے کہ جیسے فیس بک ہماری پروپیگنڈا کی جڑوں کو کاٹنے میں مدد کرتا ہے، ویسے ہی پاکستان کے قانون کے مطابق ہماری درخواستوں پر عمل در آمد کریں۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے وزارت اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر کی رپورٹ نے حقیقت عیاں کردی ہے، حکومت کی جانب سے بڑی تعداد میں اکاؤنٹس کو ’نفرت انگیز مواد پھیلانے اور تشدد پر ابھارنے والے اکاؤنٹس رپورٹ کیے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تحریک لبیک پاکستان کے دھرنوں کے دوران بھی تشدد پر ابھارنے والے کئی اکاؤنٹس رپورٹ کیے تھے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے لیے بین الاقوامی ریگولیٹری باڈی کے ہونے پر زور دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت سوشل میڈیا کمپنیوں سے بات کر رہی ہے تاکہ ایسا کوئی میکانزم تیار کیا جاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ ’میرے حال ہی میں برطانیہ کے دورے کے دوران ہمیں فیس بک اور ٹوئٹر سے مثبت جواب ملا تھا اور مزید مذاکرات جاری ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎