اسرائیلی فورسز نے 40 نہتے فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلسطین کے مغربی کنارے میں مختلف کارروائیاں کرتے ہوئے مبینہ طور پر خطرناک حملے کی سازش کرنے والے 40 فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا۔


خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جمعہ کو رات گئے مغربی کنارے کے قریبی شہر رام اللہ اور دیگر علاقوں میں کارروائی کے دوران فلسطینیوں کو گرفتار کیا تھا۔

فورسز کے مطابق 50 سال سے اسرائیل کے زیر تسلط علاقے مغربی کنارے میں 2 ماہ میں تیسری مرتبہ ایک حملہ آور کو 2 صیہونی اہلکاروں کو قتل کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

اسرائیلی آرمی نے ایک بیان میں کہا کہ ’فورسز کی جانب سے 40 مشتبہ افراد کو دہشت گردی کی کارروائیوں، شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف پر تشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا‘۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار شدہ افراد میں سے 37 کا تعلق حماس سے بتایا جارہا ہے، انہوں نے حال ہی میں فائرنگ کے 2 واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے، جن میں جمعرات کو ہونے والا حملہ شامل نہیں۔

اس سے قبل اسرائیلی فورسز نے گزشتہ روز صبح مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کے علاقوں سے 56 فلسطینیوں کو گرفتار کیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ مہینے اسرائیلی پولیس نے فلسطینی انتظامیہ کے گورنر کو یروشلم کو زمین کی فروخت کے حوالے سے کئی ماہ سے جاری تحقیقات کے بعد دوسری مرتبہ گرفتار کیا تھا۔

اس سے قبل نومبر ہی میں اسرائیلی فوج کے آپریشن کے نتیجے میں ہونے والی جھڑپ میں غزہ کی پٹی پر 6 فلسطینی جاں بحق اور ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔

اکتوبر میں بھی اسرائیل اور غزہ کے درمیان سرحد پر احتجاج کرنے والوں پر صہیونی فوجیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں 30 مارچ سے اب تک اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے تقریباً 213 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیلی قبضے اور مقامی افراد کو بے دخل کرنے کے 70 برس پورے ہونے کے سلسلے میں فلسطینی عوام 30 مارچ سے مستقل ہفتہ وار احتجاج کر رہے ہیں۔

تقریباً 6 لاکھ اسرائیلی مغربی کنارے سمیت مشرقی بیت المقدس میں آباد کار ہیں جسے عالمی برادری کی جانب سے غیر قانونی قرار دیا جاچکا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎