آئی جی پنجاب درست یا پولیس ریکارڈ؟

2018ء میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر اُکھاڑ پچھاڑ ہوئی، دعویٰ کیا گیا کہ جرائم میں کمی آئے گی لیکن ایسا نہ ہوا۔

پنجاب پولیس کے ریکارڈ کے مطابق صوبے میں جرائم 10 فیصد بڑھ گئے اور مقدمات کے اندراج میں 10فیصد کمی آئی ہےجبکہ آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں جرائم کی شرح کم ہو گئی جبکہ مقدمات کے اندراج میں اضافہ ہوا ہے۔

آئی جی پنجاب امجدجاوید سلیمی کہتے ہیں کہ پولیس کلچر میں بہتری کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، ان سے عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے بھی کم ہوں گے۔


اعلیٰ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ تعیناتیوں میں بے یقینی کی فضاء جرائم میں اضافے کی ایک وجہ ہے، حکومت کو ٹرانسفر پوسٹنگ کی واضح پالیسی بنانی چاہیے۔

صوبے میں 2017ء کے مقابلے میں قتل، ڈکیتی، راہزنی، گینگ ریپ اور اغواء برائے تاوان کی وارداتیں 10 فیصد زیادہ ہوئی ہیں۔

گھروں میں گھس کر ڈکیتی کی وارداتیں 2018ء سے پہلے نہ ہونے کے برابر تھیں، لیکن اب پنجاب بھر میں روزانہ ایسی 100 سے زائد واردتیں رپورٹ ہو رہی ہیں۔

پنجاب پولیس کے آن لائن ریکارڈ میں بھی جرائم زیادہ اور مقدمات کم ہیں لیکن آئی جی امجد جاوید سلیمی یہ ماننے کو تیار ہی نہیں۔

آئی جی پنجاب امجدجاوید سلیمی کہتے ہیں کہ پولیس کلچر میں بہتری کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، ان سے عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے بھی کم ہوں گے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎