دوہری شہریت سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے اہم فیصلہ سنا دیا

فیصلے میں کہا گیا کہ دوران ملازمت غیر ملکی شہریت لینے والوں کو شہریت چھوڑنے کی مہلت دیں ورنہ ان کے خلاف کارروائی کریں۔


عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں قرار دیا گیا کہ غیر ملکی شہریت رکھنے والے سرکاری ملازمین ریاست پاکستان کے مفاد کے لیے خطرہ ہیں۔

لاہور: سپریم کورٹ نے ججز اور سرکاری افسران اور دیگر کی دوہری شہریت سے متعلق کیس میں وفاقی و صوبائی حکومت کو اس پر قانون سازی کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ججز، سرکاری ملازمین اور دیگر کی دوہری شہریت سے متعلق کیس پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی و صوبائی حکومت اس معاملے پر قانون سازی کرے، متعلقہ حکومتیں ایسے ملازمین کو ڈیڈ لائن دیں کہ وہ نوکری چھوڑدیں یا دوہری شہریت چھوڑ دیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ضروری حالات میں کسی غیرپاکستانی کو عہدہ دینے سے قبل کابینہ سے منظوری لی جائے، اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں دوہری شہریت والے اپنے ملازمین کی فہرستیں مرتب کرکے ان کے نام منفی فہرست میں ڈالیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق پارلیمنٹ دوہری شہریت والے ملازمین کے خلاف کارروائی کے لیے جلد قانون سازی اور دیگر اقدامات کرے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ججز اور سرکاری افسران کی دہوری شہریت سے متعلق ازخود نوٹس لیا تھا اور ایسے تمام افسران کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔

بعد ازاں اس کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے دوہری شہریت کے حامل افراد کی فہرست پیش کی گئی تھی، جس کے بعد عدالت نے ان افراد کو نوٹس بھی جاری کیے تھے۔

اس کے بعد کیس میں تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد 24 ستمبر 2018 کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎