علی گل پیر بمقابلہ ماہرہ خان

علی گل پیر پاکستان کا ایک ایسا نام ہے جس نے روایتی طورطریقوں سے ہٹ کر بالکل مختلف انداز اپنایا اور خوب نام کمایا۔ حساس موضوع پر طنزومزاح کے پیرائے میں ’’وڈیرے کا بیٹا‘‘جیسے گانے سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے علی گل پیر اکثر ہی کچھ ہٹ کر کرتے ہیں۔ان کی تازہ تخلیق کوئی گانا یا تحریر نہیں بلکہ معروف اداکارہ ماہرہ خان کی ایک تصویر کی ایسی نقالی ہے کہ دیکھنے والے ہنسی نہ روک پائیں۔


فلورل پرنٹ ڈریس پہنے ہوئے ماہرہ خان کی یہ تصویر خاصی تروتازہ دکھائی دے رہی ہے لیکن علی گل پیر کو ایسا نہیں لگا بلکہ انہوں نے اپنے ہی مطلب کا نتیجہ اخذ کیا۔

ماہرہ کا انداز اپنانے والے علی نے آنکھیں بند کررکھی ہیں اورتصویرکا کیپشن دیا ہے کہ جب سوکراٹھیں تو لگتا ہے ہم ایسے لگ رہے ہیں (ماہرہ جیسے) لیکن حقیقت کچھ یوں ہوتی ہے۔

انسٹا اور ٹوئٹر صارفین اس دلچسپ نقالی پر خوب تبصرے کر رہے ہیں۔

اس سے قبل اپریل 2018 میں بھی علی نے چند مشہور تصاویر کی بہترین نقالی پر خوب دادپائی تھی۔ سمانے اس حوالے سے ان سے خصوصی گفتگو کی تھی۔ تصاویر آپ کی دلچسی کیلئے پھرسے دی جا رہی ہیں۔

سما نےخصوصی گفتگو میں علی سے پوچھا کہ یہ خیال انہیں کیسے آیا؟ جواب میں علی نے بتایا کہ عموما کامیڈی مزاحیہ گانوں، ویڈیوز یا تحریروں کے ذریعے کی جاتی ہے، لیکن ڈیجیٹل دورمیں سب کا ماننا ہے کہ کانٹینٹ سے ہٹ کر بھی کچھ ہوناچاہیے۔ ان تصویروں کی نقالی کا آئیڈیا میں نے مغرب سے لیا۔ تصویروں کے ذریعےوہاں زبردست کامیڈی کی جاتی ہے تو میں نے بھی سوچا کہ ان تصاویر کے ذریعے کچھ کیا جائے۔

یہ اسٹائلنگ ایسے ہی نہیں ہوگئی بلکہ ہیوی بجٹ کے اسٹائلسٹ اور میک اپ آرٹسٹ کی تخلیق ہے اس لیے دونوں تصاویرایک سی ہیں بس فرق صرف اتنا ہے کہ علی نے یہ پھول صدر سے درآمد کیے ہیں۔ یہ بھی بتایا ہے کہ اگر آپ کنفیوژ ہیں تو دائیں جانب والی تصویر ان کی ہے۔

سال 2013 میں پاکستانی فیشن ڈیزائنر آمنہ عقیل کی جانب سے متعارف کرائی گئی ’’بی مائی سلیو‘‘ کمپین کا یہ تصویر یقیننا ایک اچھا جواب ہے جس میں ماڈل تو بچے کو غلام بنائے بیٹھی ہیں لیکن علی نے خود ایک بچے کا غلام بننا پسند کیا۔ ان کے مطابق بچے ہمارا مستقبل ہیں، ان کے ساتھ یہ نہیں کرنا چاہیئے۔ میرا بھانجا جو کہتا ہے مجھے کرنا پڑتا ہے تو میں خود اس کا غلام بننا پسند کروں گا۔

حسین سسٹرز خود بھی اس تصویرکا یہ حال دیکھ کر شاید ہنسی نہ روک پائیں۔ اس کی نقالی یوں کی گئی کہ علی کو لگا ایسے کون کرتا ہے بھئی؟ مطلب شاور کے بعد ٹاول میں ایسی اسٹائلنگ کے ساتھ فوٹو شوٹ؟ ہنسی آئی تو نقل بھی کرڈالی۔

ڈیزائنرجوڑی ثناسفینازکی جانب سے افریقہ جا کرلان کمپین کے فوٹو شوٹ پرکی جانے والی تنقید سب کو یاد ہو گی جس میں ان پر نسلی تعصب پھیلانے کا الزام لگایا گیا۔ علی کو بھی اس کمپین کا مطلب سمجھ نہیں آیا۔ ان کے نزدیک کالے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے ایسا کام کرایا جاتا۔ بھئی افریقہ جا کران کے ساتھ روایتی ڈانس ہی کر لیتے۔

ماڈل صدف کنول کے اس ہاٹ فوٹو شوٹ کا بھی علی نے خوب حشرنشر کیا۔

اداکارہ ماہرہ خان اوررنبیرکپور کی یہ تصویر بھی سب کے حافظےمیں موجود ہوگی۔ علی کا کہنا ہے کہ اس تصویرکا انتخاب ذرا مشکل فیصلہ تھالیکن پھرسوچا کہ صرف مزاح کے نقطہ نظر سے اس میں کوئی خرابی نہیں۔ سگریٹ نوشی قطعا ذاتی عمل ہے جس سے کسی کو کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیئے۔تصویر کا کیپشن بھی آپ کو خوب ہنسائے گا۔ یہاں سات منٹ چرس سے کا خیال علی کو ماہرہ کی نئی فلم ’’سات دن محبت ان‘‘ سے آیا۔

چائے والا بمقابلہ بوتل والا

عائشہ عمر کا بوجھ توسکندر رضوی نے خوب اٹھا لیا لیکن علی کی الٹی تدبیر نے بیچاری ماڈل کی جان مشکل میں ڈال رکھی ہے جو اپنے ناتواں کندھوں پر بمشکل یہ بوجھ لادے ہوئے ہیں کہ لگ رہا ہے اب گریں کہ تب گریں۔

ماہرہ اور رنبیر کی سگریٹ نوشی ، ارشد چائے والا، ثناسفیناز کی افریقہ میں جا کر لان کمپین جیسی تصاویر کو ہی منتخب کرنے کا خیال کیسے آیا کے جواب میں علی نے کہا کہ انٹرنیٹ پرسرچنگ کے دوران میرے دماغ میں یہ تھا کہ تصاویر ایسی ہوں جو سب کیلئے جانی پہچانی ہوں اوران کا پس منظر سب جانتے ہوں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎