سقوط ڈھاکا، تاریخ کا تاریک ترین دن

یوم سقوط ڈھاکا پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن اور رستا ہوا زخم ہے جو شاید کبھی نہ بھر پائے گا۔ بلاشبہ اس دن کا سورج ہمیں شرمندگی اور پچھتاوے کا احساس دلاتے ہوئے نمودار ہوتا ہے اور تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کرتا نظر آتا ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ بھارت نے کبھی بھی پاکستان کے وجود کو سچے دل سے تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ اس موقع کی تلاش میں رہا کہ کسی طرح پاکستان کو تقسیم کردے۔ سقوط ڈھاکا کے بعد بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کا یہ بیان کہ "آج ہم نے مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے کر پاکستان کا دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے"، اُن کے دل میں مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف چھپی نفرت کی عکاسی کرتا ہے۔


بھارت نے پاکستان کا وجود دل سے کبھی تسلیم ہی نہیں کیا۔ تبھی تو انیس سو سینتالیس سے ہی سازشوں کا جال بنتا چلا آ رہا ہے۔ انیس سو اکہتر میں تو اس کا ایک کاری وار چل بھی گیا۔ جب آج ہی کے دن سقوط ڈھاکا ہوا تھا۔ سیاسی اور عسکری حلقے اب تسلیم کرتے ہیں کہ کچھ غلطیاں تو اپنی بھی تھیں۔

سال 1970 کے عام انتخابات کے بعد ملک میں پیدا ہونے والا سیاسی ڈیڈ لاک ملک کو دو لخت کرگیا۔ ان حالات نے ازلی دشمن بھارت کو ہمارے رستے زخم میں پروپیگنڈے کا زہر گھولنے کا موقع ہاتھ آگیا اور پھر 16 دسمبر 1971 کو سقوط ڈھاکا جیسا قومی سانحہ ہو گیا۔ گہری چوٹ کھائی مگر سبق پا لیا کہ ڈھال کا خیال نہ رکھا جائے تو دشمن کا وار چل ہی جاتا ہے۔

یوم سقوط ڈھاکا پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن اور رستا ہوا زخم ہے جو شاید کبھی نہ بھر پائے گا۔ بلاشبہ اس دن کا سورج ہمیں شرمندگی اور پچھتاوے کا احساس دلاتے ہوئے نمودار ہوتا ہے اور تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کرتا نظر آتا ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ بھارت نے کبھی بھی پاکستان کے وجود کو سچے دل سے تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ اس موقع کی تلاش میں رہا کہ کسی طرح پاکستان کو تقسیم کردے۔ سقوط ڈھاکا کے بعد بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کا یہ بیان کہ "آج ہم نے مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے کر پاکستان کا دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے"، اُن کے دل میں مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف چھپی نفرت کی عکاسی کرتا ہے۔

۔ پاکستان کی وہ نسل جو 1971ء کے بعد پیدا ہوئی یا اس نے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ہوش سنبھالا ہے ان کے لیے بنگلہ دیش، پاکستان سے دور ایک علیحدہ ملک ہے۔ ان کے سامنے جنرل نیازی اور جنرل اروڑا سنگھ کی تصویر بار بار میڈیا میں پر نمودار ہوتی ہے۔

بنگلہ دیشی حکومت کہتی ہے کہ پاکستان سے علیحدگی کی مہم میں 30 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ مغربی ذرائع ہلاک شدگان کی تعداد 2 لاکھ سے 15 لاکھ کے درمیان بتاتے ہیں، جب کہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کے حوالے سے یہ تعداد 26 ہزار بتائی جاتی ہے جس میں بنگالی اور بہاری دونوں شامل ہیں۔ بنگلادیش کی آڑ میں بھارت نے اپنے ڈیتھ اسکواڈ پاکستان کی حامی بنگالی شخصیات کو قتل کرنے کیلئے استعمال کیے۔ مکتی باہنی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کلر سرا عام گھوم رہے تھے۔ بھارت لگ بھگ ایک لاکھ مکتی باہنیوں کے علاوہ 580 تبتی گوریلوں کو بھی مشرقی پاکستان میں بھیج چکا تھا ’’فینٹم آف چٹاگانگ‘‘ کے نام سے شہرت پانے والے یہ گوریلے اگر اس پہاڑی علاقے میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کارروائیاں شروع نہ کرتے تو بھارتی فوج کا اس علاقے میں گھسنا ناممکن ہوتا۔

بھارت دعویٰ کرتا ہے کہ بنگلہ دیش میں 93 ہزارپاکستانی فوجیوں نے ہتھیار ڈالے تھے، جب کہ 25 مارچ کو وہاں تین انفنٹری ڈویژن بری فوج تھی جس کی تعداد تقریباً 27 ہزار تھی بعد میں مزید دستے بھیجے گئے تھے جس کے بعد تعداد 36 ہزار ہوگئی تھی۔ 90 ہزار قیدی تھے جن میں سول اور فوجی اہلکاروں کے بیوی بچے بھی شامل تھے۔مشرقی پاکستان میں 18 سیبر لڑاکا طیاروں پر مشتمل ایک نامکمل اسکواڈرن اور دو ٹی-33 تربیتی طیارے اور چند ہیلی کاپٹر تھے جن میں سے 13 طیارے آخر وقت میں خودہی تباہ کر دیئے تھے۔

پاکستان نیوی کے پاس صرف چار گن بوٹس اور 8 دوسری چھوٹی کشتیاں تھیں، ا س کے مقابلے میں بھارت نے اپنے طیارہ بردار جہاز سمیت پورے بحری بیٹرے سے خلیج بنگال کو گھیرا ہوا تھا جبکہ لڑاکا اور بمبار طیاروں کے 12 اسکواڈرنزکے طیارے مشرقی پاکستان کی فضائوں میں اڑ رہے تھے جبکہ ڈھاکہ میں گرائے جانے والے لڑاکا طیارے کے سوویت پائلٹ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا لیکن اس گرفتاری کے اعلان سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیئے گئے۔ بھارتی فوج کے9 انفنٹری ڈویژنز نے آرمرڈ یونٹس اور مکمل ایئر سپورٹ کے ساتھ مشرقی پاکستان پر تین طرف سے حملہ کیا تھا، لیکن اس حملے سے مہینوں پہلے بھارتی خفیہ ایجنسی را مشرقی پاکستان میں مکتی باہنیوں کی مدد سے اپنی تخریبی کارروائیاں شروع کر چکی تھی جنہیں کچھ طیارے بھی فراہم کر دیئے گئے تھے۔

ایسی صورت حال میں فوج نے جتنی دیر بھی جنگ لڑی وہ قابل قدر ہے لیکن سوال یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کا دفاع اتنا کمزور کیوں رکھا گیا تھا؟ کیا حکمرانوں نے پہلے سے سوچ رکھا تھا کہ اسے علیحدہ کر دیا جائے گا؟ عام خیال ہے کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو انتخابی نتائج تسلیم کرکے اپوزیشن میں بیٹھ جاتے تو مشرقی پاکستان کے حالات بالکل مختلف ہوتے لیکن وہ ہر صورت میں وزیر اعظم بننا چاہتے تھے۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اگر شیخ مجیب الرحمان وزیر اعظم بن جاتے تو ان کے لیے بنگلہ دیش کے منصوبے پر عمل کرنا مشکل ہوتا لیکن وہ اور ان کے منتخب ارکان بنگلہ دیش سے کم کسی چیز پر آمادہ نہیں تھے، تاہم بھٹو کے جاگیردارانہ سیاسی تکبر اور فوجی آپریشن کے باعث مشرقی پاکستان میں بنگلہ دیش کی تحریک پر تشدد شدت اختیار کر گئی جس کی وجہ سے شیخ مجیب الرحمان کو پہلے بھی گرفتار کیا جا چکا تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎