کشمیر میں بھارتی فورسز کی دہشتگردی قابل مذمت ہے، او آئی سی

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے نہتے کشمیریوں کو قتل کرنے کی سخت مذمت کی ہے۔


ادارے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ اسلامی تعاون تنظیم کا جنرل سیکریٹریٹ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے نہتے کشمیریوں کو قتل کرنے کی سخت مذمت کرتا ہے‘۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ضلع پلواما میں مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں نہتے شہریوں کے جاں بحق ہونے کا دعویٰ کیا گیا‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ جنرل سیکریٹریٹ متاثرین کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتا ہے۔

او آئی سی کی جانب سے یہ بیان پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں جاری مظالم کو روکنے کے لیے عالمی برادری سے ’مداخلت‘ کا مطالبہ کیا تھا.

قبل ازیں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل، ہیومن رائٹس کمیشن اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کو خط لکھے ہیں جن میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا فوری نوٹس لینے اور انہیں اس ظلم سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے پلواما میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں 14 کشمیریوں کی شہادت پر مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے عالمی برادری سے مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ’لوگوں کو اس ظلم سے نجات مل سکے‘۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں اٹھائیں گے‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے‘۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ’ مسئلہ کشمیر ’ تشدد اور قتل ‘ کے ذریعے نہیں بلکہ صرف مذاکرات سے حل ہوسکتا ہے‘۔

شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ او آئی سی کےسیکریٹری جنرل سے درخواست کی کہ فوری طور پر وہ کشمیر پر اپنے کانٹیکٹ گروپ کا اجلاس طلب کرے اور پاکستان کانٹیکٹ گروپ کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎