سعودی ولی عہد کے خلاف امریکی قرارداد اندرونی معاملات میں ’مداخلت‘ ہے، سعودی عرب

17 اکتوبر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹین لاگارڈے نے معروف صحافی کی مبینہ گمشدگی کے بعد مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا تھا اور سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ملتوی کردی تھی۔


اسی روز سعودی صحافی خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔

دریں اثناء 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔

علاوہ ازیں گزشتہ ماہ امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل طاقتور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر ہوا۔

سعودی عرب نے یمن میں جنگ اور سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے پر امریکی سینیٹ میں قرار داد کی منظوری کو ’مداخلت‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام واشنگٹن کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک

سعودی وزارت کی جانب سے خبردار کیا گیا کہ ریاست اپنے حکمرانوں کی کسی بھی طرح کی ’بے عزتی‘ کو برداشت نہیں کرے گی۔

وزارت کا کہنا تھا کہ ’امریکی سینیٹ کے اس اقدام نے ان تمام کو غلط پیغام بھیجا ہے جو سعودی عرب اور امریکا کے تعلقات میں خلل پیدا کرنا چاہتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’سعودی ریاست کو امید ہے کہ اہم اسٹریٹجک تعلقات پر منفی اثر سے بچنے کے لیے اس معاملے کو امریکا میں سیاسی بحث میں نہیں لایا جائے گا‘۔

اس سے قبل امریکی سینیٹ میں ووٹ کے بعد سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے قومی سلامتی کی بنیاد پر سعودی عرب کے ساتھ امریکی تعلقات کا دفاع کیا تھا۔

سینیٹ کی قرار داد میں تسلیم کیا گیا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات ’اہم‘ ہیں لیکن ریاض پر زور دیا تھا کہ وہ ’تیزی سے تذبذب کا شکار ہونے والی خارجہ پالیسی کو اعتدال‘ میں کرے۔

خیال رہے کہ امریکی سینیٹ میں جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق قرار داد میں 10 ری پبلکن اراکین نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف مذکورہ قرارداد کی حمایت کی تھی۔

قرارداد میں سعودی حکومت سے جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داران کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی اس قرار داد میں سعودی میں گرفتار خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنان کو رہا کرنے، اقتصادی اور معاشرتی ریفارمز کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

قرارداد میں سعودی عرب کو خبردار بھی کیا گیا تھا کہ روس اور چین کی حکومتوں سے تعاون اور فوجی ساز و سامان کی خریداری امریکی-سعودی فوجی تعلقات کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے کہا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اس قتل کی کوئی ابتدائی معلومات نہیں تھیں۔

تاہم ابتدائی طور پر متضاد وضاحتوں کے بعد ریاض نے بالآخر یہ تسلیم کیا تھا کہ جمال خاشقجی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا۔

سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے۔

تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں نظر آئے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا۔

تعلقات پر اثر ڈال سکتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے اور یمن میں جاری جنگ میں سعودی اتحاد کی حمایت اور امریکا کے ملٹری تعاون کے خاتمے کا مطالبے پر علیحدہ علیحدہ قرارداد منظور کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق سعودی پریس ایجنسی کے حکام کی جانب سے جاری بیان میں سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ ریاست امریکی سینیٹ کی جانب سے غیر مصدقہ الزامات کی بنیاد پر منظور کردہ حالیہ قرارداد کی مذمت اور اپنے اندرونی معاملات میں واضح مداخلت کو مسترد کرتا ہے ‘۔

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا۔

تاہم ترک حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔

سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔

تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔

اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎