جنوری تک برطانوی وزیراعظم نے بریگزٹ پر ووٹنگ ملتوی کردی

لندن : برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے اراکینِ پارلیمنٹ کو دوسرے بریگزٹ ریفرنڈم کی حمایت کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے جیسا کہ یورپی یونین کے ساتھ کیے گئے ان کے معاہدے پر سیاسی تعطل کی وجہ سے عوامی ووٹ کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔

برطانوی حکومت نے گزشتہ ہفتے معاہدے پر ووٹنگ کا انعقاد ملتوی کردیا تھا، اور اب یہ عمل 14 جنوری کو انجام دیا جائے گا، برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ کام ختم کرنے کے لیے اپنے فرائض کا احترام کرنا چاہیے۔


اس باے میں برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ بریگزٹ معاہدے کو عملی جامہ پہنچانے کے حوالے سے یورپی یونین کے ساتھ بات چیت کررہی ہیں لیکن یورپیئن کمیشن کے ترجمان مارگریٹس سچیناس کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے ساتھ مزید کوئی ملاقات متوقع نہیں۔

گزشتہ برس مارچ میں برسلز میں شروع ہونے والے سخت مذاکرات کے نتیجے میں معاہدے کے مسودے پر اتفاق کیا گیا تھا جبکہ یورپی رہنماؤں نے دوبارہ مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا تھا اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے برطانوی معیشت میں اضطراب پایا جاتا ہے۔

اس بارے میں اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربن کا کہنا تھا کہ برطانیہ ایک آئینی بحران کا شکار ہے جس کو پیدا کرنے والی وزیراعظم ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ایک اور ریفرنڈم کروا کر برطانوی عوام کے بھروسے کو نہیں توڑنا چاہیے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک اور ووٹ ہمارے سیاسی اتحاد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا اور ایک اور ووٹ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎