امریکی صدر کا ’ اسپیس کمانڈ‘ قائم کرنے کا حکم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون میں ’ اسپیس کمانڈ‘ کے قیام کا حکم جاری کردیا جو تمام خلائی آپریشنز کا نظام سنبھالے گی۔


خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسپیس کمانڈ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوج کی ایک نئی شاخ ’ اسپیس فورس ‘ بنانے کے مقصد سے علیحدہ اقدام ہے۔

یاد رہے کہ کانگریس نے اسپیس فورس کے قیام کی اجازت نہیں دی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ڈیفنس سیکریٹری جیمز میٹس کو بھیجے گئے ایک میمو میں کہا کہ ’میں اسٹیبلشمنٹ کو امریکی قوانین کے تحت امریکی جنگی اسپیس کمانڈ بنانے کا حکم دیتا ہوں‘۔

فلوریڈا کیپ کناوریل میں کینیڈی اسپیس سینٹر سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر مائیک پنس نے کہا اسپیس کمانڈ امریکی فوج کی تمام شاخوں میں خلائی صلاحیتوں کا اضافہ کرے گی۔

مائیک پنس نے کہا کہ ’ یہ خلائی نظریات، حکمت عملی، تکنیک اور طریقہ کارکو ترتیب دے گی جو ہمارے جنگی جوانوں کو اس جدید دور میں قوم کا دفاع کرنے میں مدد دے گی‘۔

اسپیس کمانڈ جسے اسپیس کوم کے نام سے جانا جائے گا یہ پینٹاگون کی گیارہویں جنگجو کمانڈ ہوگی۔

امریکا کی وسیع فوج کی کئی کمانڈز کرہ ارض کےکئی حصوں میں موجود ہے جیسا کہ مشرق وسطیٰ میں سینٹرل کمانڈ اور ایشیا میں انڈو-پیسیفک کمانڈ موجود ہیں۔

پینٹاگون میں بنائی جانے والی اسپیس کمانڈ امریکی ملٹری کی تمام کمانڈ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

اس کے لیے ایک نئے ہیڈ کوارٹر، کمانڈر اور ڈپٹی کمانڈر کی ضرورت ہوگی جس کے لیے سینیٹ کی منظوری درکار ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جون میں کہا تھا کہ وہ ’ اسپیس فورس‘ بنانا چاہتے ہیں جو نیوی، میرین کارپس، آرمی، ایئرفورس اور کوسٹ گارڈ کے بعد ملٹری کی چھٹی اور ایک نئی شاخ ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام خلا میں موجود خطرات سے نمٹنے اور خلا میں امریکا کی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

تاہم اسپیس کمانڈ کا قیام اب تک حتمی نہیں کیونکہ ابھی اسے کانگریس کی منظوری درکار ہے اور بعض قانون سازوں،دفاعی عہدیداران نے اس نظریے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایک نئی اسپیس فورس کے قیام سے پینٹاگون میں ایئرفورس کے ساتھ کشیدگی پیدا ہوجائے گی جو اس وقت اکثر خلائی آپریشنز کی ذمہ داری ادا کررہی ہے.

مائیک پنس نے فلوریڈا میں عوام سے اس وقت خطاب کیا تھا جہاں وہ سیٹلائٹ کی نئی جنریشن لے جانے والے اسپیس ایکس راکٹ کے لانچ کے لیے آئے تھے۔

یہ سیٹلائٹ امریکی ایئر فورس کی جانب سے آرڈر کی گئی تھی جس بند کرنا مخالفین کے لیے زیادہ مشکل ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎