سعودی عرب آخر کہاں سے لاتا ہے پانی؟

سعودی عرب میں تیل کی بات تو اکثر ہوتی رہتی ہے لیکن پانی کی بات اب زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ تیل کی وجہ سے سعودی عرب امیر ہے لیکن پانی کی پیاس یہاں لگاتار بڑھ رہی ہے۔


ستمبر 2011 میں سعودی عرب میں کان کنی سے منسلک ایک کمپنی کے نائب سربراہ محمد ہانی نے کہا تھا کہ یہاں سونا ہے لیکن پانی نہیں ہے اور سونے کی طرح پانی بھی مہنگا ہے۔

16ویں صدی کے شاعر رحیم کا وہ دوہا سعودی عرب پر اس معاملے میں فٹ بیٹھتا ہے: رحیم پانی رکھیے، بن پانی سب سون۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب تیل فروخت کر کے بے شمار کمائی کر رہا ہے لیکن اس کمائی کا بڑا حصہ سمندر کے پانی کو پینے کے قابل بنانے میں لگانا پڑ رہا ہے۔یہاں نہ دریا ہے نہ جھیل۔ کنوئیں بھی ہیں تو تیل کے نہ کہ پانی کے۔ پانی کے کنوئیں کب کے سوکھ چکے ہیں۔

2011 میں ہی سعودی عرب میں اس وقت پانی اور بجلی کے وزیر نے کہا تھا کہ سعودی عرب میں پانی کی طلب ہر برس سات فیصد کی حد سے بڑھ رہی ہے اور اگلی ایک دہائی میں اس کے لیے 133 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت پڑے گی۔

سعودی عرب میں کھارا پانی کنورژن پلانٹ (ایس ڈبلیو سی سی) ہر دن 30.36 لاکھ کیوسک میٹر سمندر کے پانی سے نمک الگ کر کے پینے کے قابل بناتا ہے۔

یہ سنہ 2009 کے اعداد و شمار ہیں جو اب بڑھے ہی ہوں گے۔ اس کا روز کا خرچ 80.6 لاکھ ریال آتا ہے۔ اس وقت ایک کیوسک میٹر پانی نمک الگ کرنے کا خرچ 2.57 ریال آتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹ کا خرچ 1.12 ریال فی کیوسک میٹر بن جاتا ہے۔

سعودی عرب نے سنہ 2015 میں ہی پانی کے کمرشل استعمال پر ٹیکس بڑھا دیا تھا۔سعودی عرب پانی پر ٹیکس اس لیے بڑھا رہا ہے تاکہ اس کا بے حساب استعمال روکا جا سکے۔

کئی تحقیقات کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا زیرزمین پانی اگلے 11 برسوں میں مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ سعودی عرب کے عربی اخبار الوطن کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک میں فی فرد پانی کی کھپت دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

سعودی عرب میں فی فرد ہانی کی کھپت ہر دن 265 لیٹر ہے جو کہ یورپی یونین کے ممالک سے دگنی ہے۔

سعودی عرب میں ایک بھی دریا یا جھیل نہیں ہے۔ ہزاروں سال سے سعودی عرب کے لوگ پانی کے لیے کنوؤں پر انحصار کرتے رہے ہیں لیکن بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے زیرزمین پانی کا استعمال بڑھتا گیا اور اس کی بھرائی قدرتی انداز سے نہیں ہوئی۔ دھیرے دھیرے کنوؤں کی گہرائی بڑھتی گئی اور وہ وقت بھی آ گیا جب سارے کنوئیں سوکھ گئے۔

سعودی عرب میں کتنی بارش ہوتی ہے؟ تلمیذ احمد سعودی عرب میں انڈیا کے چار سال سفیر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سعودی عرب میں ہر سال دسمبر جنوری میں طوفانی بارش ہوتی ہے لیکن یہ ایک یا دو دن ہی ہوتی ہے۔

مطلب سال میں ایک یا دو دن بارش ہوتی ہے۔ تاہم یہ سردیوں کے طوفان کی شکل میں آتی ہے اور اس سے گراؤنڈ واٹر پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تلمیذ احمد کہتے ہیں کہ یہ بارش کوئی خوشحالی نہیں بلکہ بربادی لے کر آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اردن اور شام میں بارش ہوتی ہے تو سعودی عرب کے لوگ کافی خوش ہوتے ہیں کیونکہ وہاں کی بارش کے پانی سے سعودی عرب کے زیرزمین پانی پر فرق پڑتا ہے۔

سعودی عرب میں میٹھے پانی کا خوفناک مسئلہ ہے۔ سب سے پہلے سعودی عرب میں زیرزمین پانی کا استعمال کیا گیا لیکن یہ ناکافی ثابت ہوا۔ سعودی عرب ہی نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں پانی بہت قیمتی ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے ہی سعودی عرب میں چاول کی فصل کی کاشت بند کرنا پڑی۔

سعودی عرب کو اپنے ماضی کی وجہ سے ڈر ستاتا ہے۔ سنہ 2010 میں وکی لیکس امریکہ کی ایک خفیہ دستاویز کو سامنے لایا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ شاہ عبداللہ نے سعودی عرب کی فوڈ کمپنیوں سے بیرون ملک میں زمین خریدنے کے لیے کہا ہے تاکہ وہاں سے پانی مل سکے۔ وکی لیکس کے مطابق سعودی عرب پانی اور خوراک کے حوالے اس طرح سے سوچ رہا ہے تاکہ سیاسی عدم استحکام سے بچا جا سکے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب ابھی اپنی جی ڈی پی کا دو فیصد حصہ پانی کی سبسڈی پر خرچ کرتا ہے۔ اسی رپورٹ کا کہنا ہے کہ سنہ 2050 تک مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک کو اپنی جی ڈی پی کا چھ سے 14 فیصد حصہ پانی پر خرچ کرنا ہوگا۔

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں دنیا کی چھ فیصد آبادی رہتی ہے اور یہ علاقہ دنیا کا سب سے خشک علاقہ ہے۔

ان ممالک میں الجزائر، بحرین، کویت، اردن، لیبیا، اومان، فلسطینی علاقے، قطر، سعودی عرب، تیونس، متحدہ عرب امارات اور یمن شامل ہیں۔

ان ممالک میں اوسط پانی 1200 کیوسک میٹر ہے جو کہ باقی کی دنیا کے اوسط پانی 7000 کیوسک میٹر سے چھ گنا کم ہے۔

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے زیادہ تر ممالک پانی کی مانگ پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق سنہ 2050 تک ان ممالک میں پانی کی فی فرد دستیابی آدھی ہو جائے گی۔

عالمی بینک کی تحقیق کے مطابق ان علاقوں میں بحیرۂ مردار میں موجود پانی جتنا میٹھا پانی ختم ہو چکا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ اپنے آپ میں ریکارڈ ہے۔ گلف تعاون کونسل کے ممالک میں پانی کے استعمال کے بعد پانی کے ذخیرے دوبارہ بھرنے اور مانگ میں فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔

بحرین اپنے میسر تازہ پانی کے ذخائر سے 220 فیصد سے زیادہ استعمال کر چکا ہے۔ سعودی عرب 943 فیصد اور کویت 2465 فیصد زیادہ استعمال کر چکا ہے۔ پچھلے 30 سالوں میں متحدہ عرب امارات میں فی فرد واٹر ٹیبل میں ایک میٹر کی گراوٹ ہوئی ہے۔

عالمی بینک کا اندازہ ہے کہ اگلے 50 برسوں میں متحدہ عرب امرات میں میٹھے پانی کے ذرائع ختم ہو جائیں گے۔

سمندر کے پانی سے نمک کو الگ کرنا ایک راستہ ہے۔ اس عمل کو ڈیسیلینیشن کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ طریقہ معروف ہو رہا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک میں ڈیسیلینیشن کی اہلیت پوری دنیا کی نصف ہے۔ دنیا بھر میں 150 ممالک میں سمندر کے پانی سے نمک الگ کر کے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انٹریشنل ڈیسیلینیشن ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) کا خیال ہے کہ دنیا بھر میں 30 کروڑ لوگ پانی کی روز کی ضرورتیں ڈیسیلینیشن سے پوری کر رہے ہیں۔ تاہم یہ عمل بھی آسان نہیں ہے۔

توانائی کا انحصار بھی ان علاقوں میں ڈیسیلینیشن پاور پلانٹ پر ہے۔ اس سے کاربن کا اخراج ہوتا ہے۔ اس عمل میں فوسل ایندھن کا استعمال ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس عمل سے سمندری نظام حیات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

آئی ڈی اے کی سربراہ شینن میک کارتھا کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں ڈیسیلینیشن کے عمل سے پانی گھر گھر پہنچایا جا رہا ہے۔ میک کارتھا کے مطابق کچھ ممالک میں پانی کا انحصار ڈیسیلینیشن پر 90 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

میک کارتھی کا کہنا ہے کہ 'ان ممالک میں ڈیسیلینیشن کے علاوہ کوئی کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس طرح کے غیر روایتی پانی پر کافی خرچ آتا ہے اور غریب ممالک کے لیے یہ آسان عمل نہیں ہے۔ ایسے میں یمن، لیبیا اور غرب اردن میں اب لوگ زیرزمین پانی پر ہی انحصار کرتے ہیں۔'

تلمیذ احمد کا کہنا ہے کہ سعودی عرب بے شک امیر ملک ہے لیکن وہ اشیائے خورونوش کے معاملے میں پوری طرح سے عدم تحفظ کا شکار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'کھانے پینے کا سارا سامان سعودی عرب بیرون ملک سے خریدتا ہے۔ وہاں کجھور کو چھوڑ کر کسی بھی اناج کی پیداوار نہیں ہوتی ہے۔'

زیرزمین پانی کے بھروسے سعودی عرب تو چل نہیں سکتا کیونکہ وہ بچا ہی نہیں ہے۔ پچھلے 50 سال سے سعودی عرب سمندر کے پانی سے نمک الگ کر کے استعمال کر رہا ہے۔ یہاں ہر سال ڈیسیلینیشن پلانٹ لگائے جاتے ہیں۔ یہ بالکل سچ ہے کہ اس عمل میں بہت خرچ آتا ہے اور یہ غریب ملکوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ یمن ایسا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

سعودی عرب میں درخت کاٹنا جرم ہے

نیوز ایجنسی رویٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو اپنے شہریوں کو پانی پر سب سے زیادہ سبسڈی دیتا ہے۔

سنہ 2015 میں سعودی عرب نے فیکٹریوں میں پانی کے استعمال پر ٹیکس فی کیوسک چار ریال سے بڑھا کر نو ریال کر دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق حکومت گھرو‌ں میں استعمال کے لیے پانی پر بھاری سبسڈی دیتی ہے اس لیے پانی مہنگا نہیں ملتا۔

تلمیذ احمد کہتے ہیں کہ سعودی عرب نے اپنی زمین پر چاول اگانے کی کوشش کی تھی، لیکن بہت مہنگا پڑا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ 'سعودی عرب نے چاول کے کھیت بنائے تھے۔ اس کے لیے سنچائی میں اتنا پانی لگنے لگا کہ زمین پر نمک پھیل گیا۔ کچھ ہی سالوں میں یہ زمین پوری طرح سے بنجر ہو گئی۔ وہ پورا علاقہ ہی زہریلا ہو گیا۔ پورے علاقے کو گھیر کر رکھا گیا ہے تاکہ کوئی وہاں پہنچ نہیں سکے۔ سبزی اگائی جاتی ہے لیکن بہت ہی پروٹیکٹڈ ہوتی ہے۔ کجھور یہاں کا عام درخت اور پھل ہے۔ کجھور ایک ایسا پھل ہے جس میں سب کچھ ہوتا ہے۔ تاہم زیادہ کھانے شوگر بڑھنے کا خطرہ رہتا ہے۔ یہاں درخت کاٹنا بہت بڑا جرم ہے۔'

سعودی عرب نے جب جدید طور طریقوں سے کاشتکاری کرنا شروع کی تو اس کا زیرزمین پانی 500 کیوسک کلومیٹر نیچے چلا گیا۔ نیشنل جیوگرافک کے مطابق اتنے پانی میں امریکہ کی بڑی جھیل بھر جاتی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق کھیتی باڑی کے لیے ہر سال 21 کیوسک کلیومیٹر پانی نکالا گیا۔ نکالے گئے پانی کی بھرائی نہیں ہو پائی۔ لندن کے سکول آف اوریئٹنل اینڈ افریقن سٹڈیز نے سعودی عرب میں پانی نکالنے کے حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے چار سے پانچ چوتھائی پانی استعمال کر لیا ہے۔ ناسا کی ایک رپورٹ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے سنہ 2002 سے سنہ 2016 کے بیچ 6.1 گیگا ٹن زیر زمین پانی پر ہر سال کھویا ہے۔

موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے عرب ممالک پر سب سے برا اثر پڑ رہا ہے۔ پوے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں پانی کے فقدان کا بحران گہرا رہا ہو رہا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎