2018: ٹرمپ کے متنازع بیانات، اقدامات کا ایک اور سال

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا ماضی اور حال متنازع واقعات، بیانات اور اقدامات سے مزین ہے اور انتخابی مہم ہو یا اقتدار کے منصب پر فائز ہونے کے بعد کا عرصہ، آئے روز ڈونلڈ ٹرمپ کی کوئی نہ کوئی بات ہنگامہ برپا رکھتی ہے۔


صدر بننے سے قبل انہوں نے امیگریشن قوانین سخت کرنے، مسلمانوں پر پابندی لگانے، گوانتانوموبے فعال کرنے جیسے وعدے کیے اور منصب سنبھالنے کے بعد انہیں عملی جامہ بھی پہنایا۔

سال 2018 امریکا اور پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، سال کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے ہوا کہ پاکستان کو امداد دے کر غلطی کی جبکہ اس کا اختتام انہی کی جانب سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے کی گئی درخواست سے ہورہا ہے، جس میں انہوں نے پاکستان سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تعاون طلب کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘وہ کیوبا میں قائم گوانتانامو بے جیل کو ‘برے لوگوں’ سے بھر دیں گے، یہ فیصلہ درست ہوگا، امریکا کے خلاف دہشت پھیلانے والوں کو اس جیل میں بھیج کر ٹرائل کیے جائیں گے’۔

دوسری جانب امریکی خاتون اول گویا دنیا کے سب سے طاقتور صدر کو خاطر میں ہی نہیں لاتیں، گزشتہ برس ایسی کئی ویڈیوز منظر عام پر آئیں جب ٹرمپ کے ساتھ سفر کرتے ہوئے میلانیا ٹرمپ نے ان کا بڑھا ہوا ہاتھ جھٹک دیا لیکن کچھ عرصے پہلے دیے گئے ایک انٹریو میں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کسی اختلاف کی تردید مگر انٹرویو لینے والے صحافی کا کہنا تھا کہ میلانیا ٹرمپ انٹرویو کے دوران مضطرب نظر آئیں۔

ماہ اکتوبر میں امریکی اخبار سے وابستہ اور شاہی خاندان کے ناقد سعودی صحافی جمال خاشفجی ترکی میں قائم سعودی قونصل خانے میں شادی کے لیے دستاویزات حاصل کرنے گئے اور پھر کبھی نہیں لوٹے، ترکی نے دعویٰ کیا کہ انہیں قتل کردیا گیا لیکن سعودی عرب نے کہا کہ وہ وہاں سے واپس چلے گئے تھے۔

اس معاملے پر بین الاقوامی برادری کا شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد بالآخر سعودی حکومت نے یہ تسلیم کرلیا کہ جمال خاشقجی قونصل خانے میں عملے کے ساتھ ایک جھگڑے کے دوران قتل کردیے گئے، جس پر ایک عالمی رائے سامنے آئی کہ مذکورہ قتل کا حکم مبینہ طور پر ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا۔

لیکن امریکی صدر نے اس طرح کی ہر قسم کی رپورٹ کو مسترد کیا اور قتل کا اعتراف سامنے آنے کے باوجود سعودی عرب کے خلاف کسی بھی قسم کے اقدام سے گزیر کیا،ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے بارے میں نرم مؤقف کی ایک بڑی وجہ سعودی عرب کی طرف سے بھاری مالیت کے امریکی اسلحے کی خریداری ہے۔

امریکی صدر کے اس اقدام کو الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، تاہم انہوں نے بعد میں سی این این کے صحافی پر عائد پابندی اٹھالی تھی مگر صحافی نے اس معاملے پر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ کردیا تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎