وزیراعظم ہاؤس کا بل 15 لاکھ کیسے آیا، آڈٹ کا حکم

وزیراعظم عمران خان نے پرائم منسٹر ہاؤس کی بجلی کا بل 15 لاکھ آنے کا ںوٹس لیتے ہوئے آڈٹ کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعظم نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ جب وہ پرائم منسٹر ہاؤس میں رہتے ہی نہیں تو اتنی بجلی کیسے استعمال ہوئی۔


وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں وزیراعظم ہاؤس میں 58 ہزار یونٹ تک بجلی استعمال ہوتی تھی جو اب کم ہوکر 44 ہزار پر آگئی ہے مگر عمران خان نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے اسٹاف کا بھی آڈٹ کیا جائے۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل 172 ناموں کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو معاملے پر غور کرکے رپورٹ پیش کرے گی جبکہ مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو کے نام ای سی ایل سے نکالنے کے عدالتی حکم کو بھی چیلنج کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں تجاویز پیش کرے گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ اوورسیز پاکستانی کون کون سی سرکاری نوکری اور عہدوں کے لیے اہل ہے۔ اس بارے میں وزیراعظم نے وزارت قانون کا حکم دیا ہے کہ 48 گھنٹوں کے اندر ان سرکاری عہدوں کی لسٹ تیار کی جائے جس پر دوہری شہریت کے حامل پاکستانی تعینات نہیں ہوسکتے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎