قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل، اسپیکر اسمبلی اپوزیشن کے تعاون کے طلبگار

اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور محمدعلی سے ملاقات کے بعد ایوان کی کارکردگی بہتر طور پر چلانے اور قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کے لیے اپوزیشن سے تعاون طلب کرلیا۔


اس موقع پر مسلم لیگ (ن) نے مطالبہ کیا کہ قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف اور رہنما سعد رفیق جو بدعنوانی کے الزام میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے زیر حراست ہیں، ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں۔

اس ضمن میں پی پی پی رہنما سیدخورشید شاہ نے گزشتہ روز صبح اسپیکر اسمبلی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جبکہ شام میں مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب اور رانا ثنا ءاللہ نے ان سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی۔

واضح رہے کہ 3 درجن سےزائد قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل میں تاخیر کے سبب ایوان میں قانون سازی کا عمل بری طرح متاثر ہورہا ہے، اور جولائی 2018 میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی اسمبلی میں اس وقت محض دو کمیٹیاں کام کررہی ہیں جس میں ایک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ہے۔

قوانین کے مطابق اسپیکر قائد ایوان کے منتخب ہونے کے بعد 30 روز کے اندر قائمہ کمیٹیاں تشکیل دینے کا پابند ہوتا ہے، چناچہ گزشتہ برس 18 اگست کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے منتخب ہونے کے بعد اسپیکر کو 17 ستمبر تک قائمہ کمیٹیاں بنادینی چاہیے تھیں۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق اسپیکر اسمبلی اور خورشید شاہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل، ایوان میں قانون ساز کے معاملات اور پارلیمانی امور پر گفتگو کی گئی۔

اس سلسلے میں اپوزیشن سے تعاون طلب کرتے ہوئے اسپیکر اسمبلی کا کہنا تھا کہ ایوان کا ماحول سازگار بنانا اور ایوان کا تقدس قائم رکھنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے، ہمیں ایوان کی کارروائی بہتر طور پر چلانے کے لیے پارلیمانی روایات کا بھرم رکھنےاور باہمی برداشت قائم رکھنی چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تنقید اپوزیشن کا حق ہے لیکن یہ تنقید تعمیری مقاصد کے لیے ہونی چاہیے صرف مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے نہیں۔

قائمہ کمیٹیوں کے حوالے سے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ’کمیٹیوں کی تشکیل میری اولین ترجیح ہے جس کے لیے میں حکومتی اور اپوزیشن بینچز سے رابطے میں ہوں تا کہ اس معاملے کو جلد حل کرلیا جائے‘۔

اس کے ساتھ انہوں نے بھی یہ یقین دہانی کروائی کہ کمیٹیوں کی تشکیل کا معاملہ باہمی اتفاقِ رائے سے قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں حل کرلیا جائے گا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎