زبردستی شادی سے بچنے کیلئے فرارسعودی لڑکی کوسیاسی پناہ مل گئی

کویت سے فرار ہو کر تھائی لینڈ پہنچنے والی سعودی لڑکی کی مشکل بالآخر حل ہوگئی۔ اقوام متحدہ کی درخواست پر کینیڈا نے 18 سالہ رہف محمد القعون کو سیاسی پناہ دے دی ۔


کویت سے فرار ہو کر تھائی لینڈ پہنچنے والی رہف نے بینکاک کے ہوائی اڈے پر واقع ایک ہوٹل کے ایک کمرے میں خود کو بند کرلیا تھا اور ڈی پورٹ نہ کیے جانے کی اپیل کی تھی ۔ رہف کے مطابق وہ گھر والوں کی مرضی سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی جس پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور اگر سعودی عرب واپس بھیجا گیا تو اسے قتل کردیا جائے گا ۔

جس کے بعد اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین (یو این سی ایچ آر) مدد کو پہنچ گیا اوررہف کو کسی ملک میں سیاسی پناہ ملنے تک تھائی لینڈ میں رکنے کی اجازت ملی۔

رہف القعون تھائی لینڈ سے آسٹریلیا جا کر وہاں سیاسی پناہ حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن آسٹریلوی حکام کے بجائے کینیڈا نے اسے خوشخبری سنا دی ہے۔

کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے رہف کو سیاسی پناہ دینے کے لیے متعلق اقوام متحدہ کی درخواست منظورکرتے ہوئے ایک پیغام جا ری کیا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اس اقدام پرخوشی ہے کیونکہ کینیڈا انسانی حقوق اورخواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔

رہف نے کینیڈا روانگی سے پہلے اپنے ٹوئٹراکاؤنٹ پر جسٹن ٹروڈو کا پیغام ری ٹویٹ کیا۔ اس کے علاوہ پاسپورٹ کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ ’’تیسرا ملک، میں نے یہ کردکھایا‘‘۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎