لورالائی،دہشتگردی کیخلاف احتجاج کی دعوت کے دوران سماجی کارکن کا قتل

بلوچستان کے ضلع لورالائی میں ایدھی سینٹر کے مقامی انچارج اور سماجی کارکن باز محمد عادل کو اس وقت نامعلوم دہشتگردوں نے گولیاں مار کر شہید کردیا جب وہ دہشتگردی کے خلاف احتجاج کی دعوت دے رہے تھے ۔ حملے میں ان کے دو ساتھیوں سمیت چار افراد زخمی بھی ہوئے۔


ایس ایس پی لورالائی برکت حسین کھوسہ نے ٹیلیفون پر سماء سے گفتگو کے دوران بتایا کہ باز محمد عادل کو شہر سے تقریباً تین کلومیٹر دور مہاجر اڈہ میں نشانہ بنایا گیا وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک گاڑی میں سوار تھے وہ اسپیکر پر لورالائی میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے خلاف احتجاج کا اعلان اور لوگوں کو شرکت کی دعوت دے رہے تھے۔

ضلعی پولیس سربراہ کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے اور انہوں نے نائن ایم ایم پستول سے واردات کی ۔ فائرنگ سے باز محمد عادل کے دو ساتھی اور دو راہ گیر بھی زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں خیال محمد، علاؤ الدین، علی خان اور عطاء محمد شامل ہیں جن میں سے خیال محمد کو سی ایم ایچ جبکہ باقیوں کو سول ہسپتال لورالائی منتقل کیا گیا۔ چاروں زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

لورالائی میں نئے سال کے پہلے بارہ دنوں میں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کی یہ تیسری واردات ہے۔ یکم جنوری کو ایف سی ٹریننگ سینٹر لورالائی پر دہشتگرد حملے میں چار سیکورٹی اہلکار شہید اور دو زخمی ہوئےتھے۔ فورسز کی جوابی کارروائی میں چار خودکش حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔ گیارہ جنوری کو بلوچستان ریذیڈنشل کالج لورالائی کے گیٹ کے قریب ایف سی کی گاڑی پر نامعلوم دہشتگردوں کی فائرنگ سے دو ایف سی اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ان دونوں واقعات کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

ضلعی پولیس سربراہ برکت حسین کھوسہ کے مطابق باز محمد عادل ایدھی سینٹر لورالائی کے انچارج کے علاوہ سماجی کارکن بھی تھے اور لورالائی میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے خلاف احتجاج کرنا چاہتے تھے ۔ بظاہر آج کا واقعہ بھی دہشتگردی کے ان واقعات کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎