کیا پنجاب کو اسموگ سے نجات مل سکے گی؟

لاہور — اسموگ ایک فضائی آلودگی ہے جو دھویں اور دھند کے ملاپ سے بنتی ہے اور انسان کی دیکھنے کی صلاحیت کم کردیتی ہے۔


اسموگ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ماہِ اکتوبر کے وسط سے دسمبر کے مہینے تک رہتی ہے اور اس سے لاہور سمیت بارہ اضلاع شدید متاثر ہوتے ہیں۔

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے ماحولیات امین اسلم کہتے ہیں کہ اسموگ کچرے اور چاول کی فصل کے باقیات کو جلانے، اینٹوں کے بھٹوں، گاڑیوں، اسٹیل کے کارخانوں، کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں اور صنعتی یونٹس سے پیدا ہونے والے دھویں سے بنتی ہے۔

امین اسلم کے مطابق پڑوسی ملک بھارت میں پاکستان کی نسبت فصلوں کی باقیات کو زیادہ جلایا جاتا ہے جس کا اثر پاکستان کے ماحول پر بھی پڑتا ہے۔

"ہم نے سٹیلائیٹ کے ذریعے پاکستان اور بھارت میں فصلوں کے جلانے کو مانیٹر کیا ہے۔ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، سٹیلائیٹ پر سب کچھ موجود ہے۔ انڈیا میں تقریباً 85 سے 90 فیصدفصلوں کو جلایا جاتا ہے جب کہ پاکستان میں سنہ 2017ء کی نسبت اِس کی شرح [اس سال] بہت کم ہے۔"

'فوٹو کیمیکل زیادہ خطرناک ہے'

ماہرین کے مطابق کوئلے سے چلنے والی صنعتوں اور بجلی گھروں میں اسموگ کی موجودگی آبادی والے علاقوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔

محکمۂ ماحولیات پنجاب کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد یونس کہتے ہیں کہ اسموگ کی ایک شکل فوٹو کیمیکل ہے جس میں سلفر ڈائی آکسائید اور سلفر ٹرائی آکسائیڈ شامل ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فوٹو کیمیکل ہوا میں موجود صحت مند ماحولیاتی بیکٹریا کو ختم کر دیتی ہے جس سے مختلف بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔

"لوگ مختلف قسم کی الرجی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لوگوں کے پھیپھڑے حساس ہو جاتے ہیں۔ اِس میں بچوں کو دمہ اور ایسے افراد جن کی جلد حساس ہوتی ہے ان کے لیے مشکلات بڑھ جاتی ہیں اوروہ مختف بیماریوں میں مبتلا جاتے ہیں۔"

'ہوا کو مانیٹر کرنے والا نظام ہی نہیں'

محمد یونس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ درجۂ حرارت میں تبدیلی، آلودگی، دھواں اور دھند مل کر اسموگ بناتے ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان میں پہلی مرتبہ اسموگ چند سال پہلے سامنے آئی تھی لیکن گزشتہ دو برسوں میں اِس کی شدت بڑھ گئی ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات کے بقول پاکستان میں ہوا کو مانیٹر کرنے والا کوئی نظام موجود نہیں۔

"ایئر کوالٹی انڈیکس ہر ملک کا اپنا ہوتا ہے۔ کچھ ملکوں میں یہ صفر سے 500 تک جب کہ بعض میں 500 سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ پاکستان کا اپنا کوئی اے کیو آئی نہیں۔ ہم امریکہ کو فالو کرتے ہیں۔ وہاں پر ایئر کوالٹی انڈیکس صفر سے 500 ہے۔"

'فصلوں کی باقیات نہ جلائیں تو کیا کریں؟'

حکومتِ پنجاب نے گزشتہ سال چاول کی فصل کی باقیات کو جلانے سے روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی تھی جس کے تحت فصل جلانے والے 600 کسانوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔

صوبہ پنجاب کے وسطی شہر پاکپتن میں کے ایک کاشت کار راؤ حامد علی خان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ 25 سالوں سے کاشت کاری کر رہے ہیں اور اپنے ہوش سنبھالنے سے دیکھ رہے ہیں کہ چاول سمیت تمام فصلوں کی باقیات کو جلایا جاتا ہے تا کہ اگلی فصل کے لیے زمین تیار کی جا سکے۔

وہ کہتے ہیں کہ "حکومت یا محکمۂ زراعت اِس سلسلے میں کسانوں کو کوئی آگہی تو دے۔ اگر ہم فصلوں کی باقیات کو نہ جلائیں تو کیا کریں۔ حکومت کوئی ایسا مکینزم بنائے کہ چاول کی فصل کی باقیات کو تمام کسانوں سے اکٹھا کیا جا سکے۔"

پنجاب میں عام طور پر اسموگ کا دورانیہ ماہ دسمبر کے آخر تک رہتا ہے لیکن اس مرتبہ یہ جنوری کے مہینے میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔

اسموگ سے ٹریفک کی روانی میں خلل

اسموگ کے باعث دیگر معمولاتِ زندگی متاثر ہونے کے علاوہ قومی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کے ترجمان سید عمران احمد شاہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اسموگ کی موجودگی میں حدِ نگاہ صفر سے 30 میٹر تک رہ جاتی ہے جس کے باعث وہ مسافروں کو غیر ضروری سفر کرنے سے منع کرتے ہیں اور انہیں ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ دن کی روشنی میں سفر کریں۔

"ہم روڈ یوزرز کو بتاتے ہیں کہ صبح 10 بجے سے شام چھ بجے تک سفر کریں۔ گاڑیوں پر فوگ لائٹیں لگائیں۔ گاڑی آہستہ چلائیں۔ دونوں اشاروں کا استعمال کریں اور دوران ڈرائیونگ موبائل فون اور موسیقی سے اجتناب کریں۔"

2020ء تک مسئلہ حل کرنے کا عزم

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے ماحولیات امین اسلم کہتے ہیں کہ اسموگ کے رواں سیزن کے دوران پنجاب میں دو ماہ کے لیے اینٹوں کے 350 بھٹوں کو بند کیا گیا، چار ہزار بھٹہ مالکان کے خلاف غلط ایندھن استعمال کرنے پر چالان کیے گئے۔ سات سو بچاس کارخانوں کو اسکربر نہ لگانے پر سیل کیا گیا جب کہ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے بارے میں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔

امین اسلم کے بقول حکومت کی یہ کوشش ہے کہ 2020ء تک اِس مسئلے پر قابو پا لیا جائے۔

"ہماری کوشش ہے کہ پنجاب بھر کے دس ہزار اینٹوں کے بھٹوں کو 2020ء تک سبسڈی کے ذریعے زِگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کر دیں جس کے لیے اسٹیٹ بینک سے بات چیت جاری ہے۔"

امین اسلم نے تسلیم کیا کہ کسانوں کے لیے ان کے پاس ابھی کوئی حل نہیں لیکن ان کی کوشش ہے کہ اِس مسئلے پر کاشت کاروں کو بھی آئندہ سال سے آگاہ کیا جائے گا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎