چترال :ایک مارخور کے شکار کے بدلے 92 ہزار امریکی ڈالر

چترال میں ایک امریکی سیاح نے 92 ہزار ڈالر کے بدلے مارخور کا شکار کرلیا ہے۔ مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے اور ان جنگلی حیات میں شامل ہیں جن کی نسل تیزی سے ختم ہورہی ہے اور ان کا وجود ہی خطرے میں ہے۔


پاکستان میں گلگت بلتستان، ضلع چترال، وادی کالاش اور وادئ ہنزہ سمیت دیگر شمالی علاقوں کے ساتھ وادی نیلم کے بالائی علاقوں میں بھی مارخور پایا جاتا ہے۔

شمالی علاقہ جات کے نمائندہ اخبار پامیر ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مارخور کا شکار کرنے والے امریکی سیاح کی شناخت کرسٹوفر کے نام سے ہوئی ہے۔ نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک اور سیاح تین مرتبہ فائر کرنے کے باجود مارخور کا شکار نہ کرسکے۔

مارخور کا شکار پاکستان میں غیر قانونی ہے مگر حکومت نے ایک اسکیم کے ذریعے اس کے شکار کو قانونی شکل دی ہے۔ اس اسکیم کو ’ٹرافی ہنٹنگ‘ کہتے ہیں۔

اس اسکیم کے تحت سیاح اور شکاری مارخور کا شکار کرنے کے لیے پشاور میں محکمہ وائلڈ لائف کو درخواست جمع کراتے ہیں اور بولی لگاتے ہیں۔ محکمہ وائلڈ لائف سب زیادہ بولی لگانے والے شکاریوں کو ایک مارخور کا شکار کرنے کا پرمٹ جاری کرتا ہے۔

اس کے بعد شکاری وہ پرمٹ لے کر چترال چلا جاتا ہے جہاں محکمہ وائلڈ لائف کا مقامی عملہ اس کو لے کر پہاڑوں میں جاتا ہے اور اس کو ایک مخصوص مارخور کی نشاندہی کرتا ہے۔ شکاری اسی مارخور کے علاوہ دوسرا نہیں مار سکتا۔

محکمہ وائلد لائف کے حکام کے مطابق مارخور کی زندگی 10 سے 12 سال تک ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ بوڑھا ہوجاتا ہے۔ اس لیے مقامی اہلکار شکاریوں کو ایسے ہی بوڑھے مارخور کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ٹرافی ہنٹنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم کا 20 فیصد محکمہ وائلڈ لائف کو ملتا ہے جبکہ بقیہ 80 فیصد مقامی آبادی پر خرچ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ مارخور کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ’ٹرافی ہنٹنگ‘ کے بغیر شکار کی اجازت نہیں دیتے اور خود بھی شکار نہیں کرتے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ کے باعث مارخوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے کیوں کہ پہلے کی طرح دھڑا دھڑ غیر قانونی شکار کے راستے بند ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ ٹرافی ہنٹنگ اسکیم صرف چترال میں فعال ہے اور اسی لیے چترال میں مارخور سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎