پاک افغان سرحد پر لگائے جانے والی باڑ کے مناظر دیکھئے

اس وقت دنیا بھر میں امریکا اور میکسیکو کے مابین متنازع باڑ موضوع بحث ہے مگر دوسری جانب شدید برف باری اور خون جما دینے والی سردی کے باجود پاک افغان سرحد پر بھی پاکستان آرمی کی جانب سے باڑ لگانے کا کام جاری ہے۔


پاکستان کا موقف ہے کہ سرحد غیر محفوظ ہونے کے باعث افغانستان میں مقیم دہشت گرد آسانی سے پاکستانی میں داخل ہوکر تخریبی کارروئیاں کر رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکا کا بھی یہی کہنا ہے کہ میکسیکو کے بارڈر پر منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ سمیت غیر قانونی تارکین بھی امریکا میں داخل ہوتے ہیں جن میں بیشتر جرائم پیشہ اور خطرناک گینگسٹرز ہوتے ہیں۔

پاک افغان بارڈر پر لگائے جانے والی باڑ پر افغانستان روز اول سے اعتراض کرتا آرہا ہے مگر پاکستان نے کابل کے اعتراضات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے باڑ پر کام شروع کردیا۔

دوسری جانب امریکا اور میکسیکو کے مابین باڑ کا معاملہ خود امریکا کے اندر تنازع کا شکار ہوگیا ہے جس کے باعث ملک میں شدید بحران کی کیفیت ہے۔ حکومتی شٹ ڈاؤن کو تین ہفتے پورے ہونے والے ہیں مگر ڈیموکریٹس نے باڑ کی تعمیر کے لیے فنڈز کی منظوری نہیں دی۔

میکسیکن بارڈر پر مجوزہ باڑ 1900 کلومیٹر طویل ہوگا جس کے لیے ٹرمپ نے 5 اعشاریہ 7 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب پاک افغان سرحد کی باڑ 2600 کلومیٹر طویل ہے جس کے لیے 55 کروڑ ڈالر فنڈز کی منظوری دی گئی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ میکسیکو بارڈر پر کنکریٹ کی انتہائی اونچی دیوار تعمیر کرنے کی تجویز ہے جبکہ پاک افغان سرحد پر محض خاردار تار لگائی جارہی ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎