گزشتہ سال کے مقابلے میں مہنگائی بڑھ گئی، اسد عمر کا اعتراف

وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ 23 جنوری کو قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے مالیاتی بل میں تاجروں کیلئے کئی مراعات کا اعلان کیا جائے گا، جس کا مقصد قومی معیشت کو بہتر بنانا اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر آنکھ بند کرکے دستخط نہیں کریں گے، انہوں نے تسلیم کیا کہ 2017ء کے مقابلے میں مہنگائی زیادہ ہوگئی۔ اسد عمر نے مزید کہا کہ سابقہ حکومتوں نے الیکشن لڑنے کیلئے قومی خزانہ بری طرح لٹایا۔


ہفتہ کو ایوان صنعت و تجارت کراچی میں تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ مالیاتی بل میں بجٹ بے ضابطگیوں پر قابو پالیا جائے گا، ایف بی آر میں اصلاحات کے ذریعے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کررہے ہیں، ایف بی آر کا ایس آر او جاری کرنے کا اختیار کم کردیا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ موجودہ ٹیکس ڈھانچے میں کوئی بھی تبدیلی صرف پارلیمنٹ کرسکتی ہے، حکومت کاروبار میں سہولت فراہم کرنے کی حوصلہ افزائی کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے اور معاشی ترقی کیلئے غیرملکی سرمایہ کاری کے فروغ کی غرض سے انتھک کوشش کررہی ہے۔

وزیر خزانہ بولے کہ معیشت ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے، ہم نے ملک کے بہترین مفاد میں تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کا تہیہ کر رکھا ہے، ملکی معیشت کی بہتری سے روزگار کے مواقعوں میں اضافہ ہوگا۔

اسد عمر کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت اس قسم کی معیشت لارہی ہے جس سے معاشرے کے پسماندہ طبقے کی زندگیوں میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہوں گی اور ان کا معیار زندگی بہتر ہوگا، کراچی منی پاکستان ہے، شہر قائد ترقی نہیں کرے گا تو پاکستان کیسے ترقی کرے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت خطے کے تمام ملکوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تمام مسائل مذاکرات سے حل کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات بھی بڑھانا چاہتا ہے جس سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہوگا۔

کراچی میں انٹرنیشنل میمن آرگنائزیشن کے ظہرانے سے خطاب میں وہ بولے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر آنکھ بند کرکے دستخط نہیں کرینگے، انہوں نے تسلیم کیا کہ ملک میں اس وقت مہنگائی 2017ء کے مقابلے زیادہ ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎