بلوچستان میں تشدد کے واقعات میں تین افراد ہلاک

کوئٹہ — بلوچستان میں کچھ عرصے تک خاموشی رہنے کے بعد صوبے میں ایک بار پھر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ دو دنوں کے دوران تشدد کے واقعات میں ایدھی سنٹر لورالائی کے سابق انچارج اور کالعدم بلوچ عسکر ی تنظیم بی ایل اے کے دو ارکان سمیت تین ہلاک اور ایدھی سنٹر کے چار دیگر اہلکار زخمی ہو گئے۔


ایدھی سنٹر لورالائی کے رضاکار ایک بیمار کو گھر پہنچانے کے بعد جب واپس سنٹر جا رہے تھے تو مہاجر اڈہ کے علاقے میں نا معلوم مسلح سائیکل سواروں نے گاڑی پر اندھا دُھند فائرنگ کی۔

فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار ایدھی سنٹر کا سابق انچارج باز محمد عادل موقع پر ہلاک اور چار دیگر کارکنان زخمی ہو گئے جن کو فوری طور پر مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اُن کی حالت تسلی بخش بتائی ہے۔

گزشتہ روز جمعے کی شام کو بھی لورالائی بازار کے علاقے میں بی آر سی کالج کے مرکزی دروازے کے قریب نا معلوم موٹر سائیکل سواروں نے فرنٹیئر کور کے جوانوں کی ایک گاڑی پر فائرنگ کر کے ایف سی کے دو جوانوں کو زخمی کردیا تھا اور موقع پر سے فرار ہو گئے تھے۔

پولیس حکام کے بقول، دونوں واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ تاہم، تاحال کسی کو اس سلسلے میںؒ گرفتار نہیں کیا گیا۔ ان دونوں واقعات کی ذمہ داری بھی تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی۔

رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں بھی لورالائی بازار میں مسلح افراد نے چھاﺅنی کے علاقے میں ایک حساس سیکورٹی ادارے کے دفتر پر حملہ کیا تھا جس میں سیکورٹی ادارے کے ایک اعلیٰ افسر اور تین دیگر جوانوں سمیت دو دہشت گرد بھی ہلاک چار دیگر جوان زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری بعد میں کالعدم جماعت الاحرار کی طرف سے قبول کی گئی تھی۔

دوسری طرف سے کالعدم بلوچ عسکری تنظیمیں کچھ عر صے تک خاموش رہنے کے بعد ایک بار پھر سرگرم ہو گئی ہیں اور کالعدم عسکری تنظیم، بی ایل اے کے ترجمان، جنید بلوچ کی طرف سے سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ جمعے کو بی ایل اے کے جوانوں اور پاکستان کے سیکورٹی فورسز کے درمیان بلوچستان کے ضلع خاران کے علاقے لجے میں زبردست جھڑپیں ہوئیں۔ جھڑپوں میں بی ایل اے کے دو جوان ہلاک ہوئے۔

جنید بلوچ کے بقول، جھڑپوں میں پاکستان کے سیکورٹی دستوں کو بھی بھاری جانی نقصان پہنچایا گیا۔ تاہم، آئی ایس پی آر یا دیگر سرکاری اداروں کی طرف سے تاحال خاران میں ان جھڑپوں کے حوالے سے کسی قسم کا بیان جاری نہیں کیا گیا۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ مہینے افغانستان کے شہر قندھار میں بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر کی ایک بم حملے میں ہلاکت کے بعد بلوچستان میں تشدد کے واقعات میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

تجزیہ نگار امان اللہ شادیزئی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بدامنی کے واقعات میں ماضی کے مقابلے میں اب کافی کمی آئی ہے۔ لیکن، اب بھی کچھ واقعات ہو رہے ہیں۔ ان واقعات کو ختم کرنے کے لئے صوبائی اور وفاقی حکومت کو بیرون ملک مقیم بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کرکے اُنھیں واپس ملک آنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

بقول اُن کے، ’’دنیا میں جتنے ممالک نے جنگیں لڑیں بالاخر انھوں نے ٹیبل پر آ کر اُس کا فیصلہ کیا اُن کی کچھ شکایتیں ہوں گی۔ یہ شکایتیں دور کی جائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ موقع سب سے اہم ہے عمران خان کو چاہیئے کہ بلوچستان کی جو حکومت ہے چونکہ جام کمال ایک باصلاحیت آدمی ہے حالات کو جانتے بھی ہیں اگر ان کو اس پر آمادہ کیا جائے اور یہ جا کر ملاقاتیں بھی کر لیں میرا خیال ہے یہ اس میں کامیاب بھی ہو جائیں گے۔ خان آف قلات آجائیں گے براہمداغ بھی آجائیںگے کوئی بھی آدمی اپنے وطن سے زیادہ دیر تک باہر نہیں رہ سکتا‘‘۔

صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو کا کہنا ہے کہ ’’بلوچستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اور صوبے کے حالات خراب کرنے میں ہمسایہ ممالک کا ہاتھ ہے‘‘۔

بقول اُن کے ’’گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچستان حالت جنگ میں ہے۔ لوگ مر رہے ہیں۔ اس سب کا نقصان ہمارے ملک کو ہو رہا ہے کچھ لوگ سیاسی لوگوں کے نعروں پر چل کر مارے گئے۔۔۔۔‘‘



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎