بلوچستان کے بلدیاتی نمائندوں کا صوبائی اسمبلی کے باہر احتجاج

بلوچستان کے بلدیاتی نمائندے صوبائی وزراء اوربیورو کریسی کے رویے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مدت پوری کرنے اور ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔


میئر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ کی قیادت میں بلوچستان کی میونسپل کمیٹیوں اور ڈسٹرکٹ کونسلز کے چیئرمینوں اور کونسلروں نے کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاج کیا۔مظاہرین نے بینرز اٹھا تھے جن پر مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے، احتجاج میں شریک بلدیاتی نمائندوں کا کہنا تھا کہ صوبائی وزراء،اراکین اسمبلی اور بیورو کریسی نے چار سالوں میں بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور فنڈز کی منتقلی میں رکاوٹیں پیدا کیں جس کی وجہ سے نچلی سطح پر عوامی مسائل حل نہیں ہوئے۔اب بلدیاتی اداروں کو مدت مکمل ہونے سے قبل ہی تحلیل کیا جارہا ہے۔

اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ کا کہنا تھا کہ قانون میں یہ بات طے ہے کہ بلدیاتی ادارے چار سال پورا کرینگے مگر بلوچستان کے بعض ڈسٹرکٹ کونسلز اور میونسپل کمیٹیوں کے چیئرمین کی مدت کو ساڑھے تین سال یا پونے چار سال ہورہے ہیں مگر صوبائی حکومت مدت پوری ہونے سے قبل بلدیاتی ادارے تحلیل کررہی ہے۔ اس کے علاوہ بلدیاتی اداروں کو فنڈز جاری نہیں کئے جارہے، رواں سال کا بجٹ تو چھوڑیں گزشتہ مالی سال کا بجٹ بھی ہمیں نہیں دیا گیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں کم از کم رواں سال کے مارچ کے آخر تک کی مدت دی جائے اور ہمیں فنڈز بھی جاری کئے جائیں تاکہ ہم نے چھ چھ ماہ لگا کر جو منصوبے بنائے ہیں اسے پورا کریں۔

میئر کوئٹہ کا کہنا تھا کہ غیر ترقیاتی فنڈز بھی فراہم نہیں کئے گئے سات سات ماہ سے کوئی فنڈز نہیں دیئے گئے جس کی وجہ سے ہمارے پاس گاڑیوں کی پٹرول کی رقم بھی نہیں۔ ڈیلی ویجز ملازمین تک ہم تنخواہیں نہیں دے سکتے، ان کا کا کہنا تھا کہ بلدیاتی ادارے جمہوریت کا بنیادی حصہ ہے، صوبائی اسمبلی کا کام قانون سازی کرنا ہے، سیاسی، مالی اور انتظامی اختیارات بلدیاتی اداروں کے ہیں مگر یہ لوگ قانون سازی تو کرتے نہیں اور ہمارے اختیارات اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہیں، بلدیاتی ایکٹ 2010 میں بلدیاتی نمائندوں کے ہاتھ باندھے گئے ہیں، اگر انہوں نے ہمیں اختیارات دینے ہی نہیں تو پھر قومی اور صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے قانون سازی کرکے بلدیاتی نظام ہی ختم کردیا جائے تاکہ لوگ تو کم سے آکر شکوہ نہ کریں، ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی ادارے سپریم کورٹ بھی گئے ہیں جہاں حکومت اور بیوریوکریسی کے نمائندے پس و پیش سے کام لے رہے ہیں ۔

چیئرمین میونسپل کمیٹی قلعہ عبداللہ حبیب اللہ کاکوزئی کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نمائندوں نے کم سے کم وسائل میں تمام تر رکاوٹیں، وزراء ، ارکان اسمبلی اور بیورو کریٹس کی مداخلت اور بددیانتی کے باوجود کارکردگی دکھائی ہے، انہوں نے کہا کہ صوبائی خود مختاری کا رونا رونے والے خودنچلی سطح پر بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے کیلئے تیار نہیں، ہماری حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے ارکان اسمبلی نے ہر قسم کی مداخلت کی اور عوام کے مسائل حل ہونے میں رکاوٹیں پیدا کیں، یہ لوگ خود کو عوامی نمائندے کہتے ہیں ہم بھی نچلی سطح پر عوام سے ووٹ لیکر منتخب ہوئے ہیں، منتخب نمائندوں کی حیثیت سے ہمارے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا گیا۔

انہوں نے وزیراعلیٰ جام کمال سے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی نمائندوں کے مسائل پر توجہ دی جائے ورنہ احتجاج کو مزید سخت کیا جائےگا اور عوامی نمائندوں کو اسمبلی بھی جانے نہیں دیا جائےگا، احتجاج میں شریک دیگر بلدیاتی نمائندوں کا مطالبہ تھا سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صوبائی حکومت کے بلدیاتی اداروں میں مداخلت کا نوٹس لیں ۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎