بلوچستان اسمبلی کا اجلاس:تعلیمی زبوں پر گرما گرم بحث

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ہرنائی وولن مل کی فعالی اور زیارت تا ہرنائی اور سنجاوی شاہراہ کی تعمیر سے متعلق قراردادیں منظور کر لی گئیں اجلاس کے دوران صوبے میں تعلیمی زبوحالی پر اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔


بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سپیکر قدوس بزنجو کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں پی بی 26کوئٹہ سے ہزارہ ڈیموکیٹک پارٹی کے نو منتخب رکن اسمبلی قادر علی نائل نے رکنیت کا حلف اٹھایا، اجلاس کے دوران صوبائی وزیر واسا نور محمد دمڑ نے ہرنائی وولن مل کی فعالی اور زیارت ،ہرنائی اور سنجاوی شاہراہ کی تعمیر سے متعلق دو الگ الگ قراردادیں پیش کیں ،ایوان میں دونوں قراردادیں مطفقہ طور پر منظور کر لی گئیں۔

نورمحمد دمڑ کا کہنا تھا کہ ہرنائی وولن مل طویل عرصے سے غیر فعال اور بند پڑا ہے جس سے علاقے میں احساس محرومی کے ساتھ ساتھ مل سے وابسطہ ہزاروں مزدور بے روز گارہو گئے، زیارت سنجاوی شاہراہ سے متعلق قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ زیارت سے ہرنائی اور سنجاوی تک شاہراہ این ایچ اے کے سپرد کرکے اس کی تعمیر کا کام شرفوع کیا جائے یہ قومی شاہراہ عرصہ دراز سے زبوں حالی کا شکار ہے ۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن اسمبلی ثناء بلوچ نے صوبے میں تعلیمی زبوحالی سے متعلق توجہ دلاءو نوٹس پیش کیا اور کہا کہ صوبے میں تعلمی ناظام ابتری کی طرف جارہاہے پچیس لاکھ بچے سکول نہیں جاتے ہزاروں سکولز یاتوبغیر عمارت کے ہیں یاپھر چار دیواری ،اساتذہ اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

ثناء بلوچ کے توجہ دلاؤنوٹس پر صوبائی وزیرعبدالرحمن کیتھران نے صوبے میں تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن کو مل کر کام کرنے کی دعوت دی۔

عبدلرحمان کھیتران کا کہنا کہ کہ سردار عطاء اللہ مینگل جب وزیر اعلیٰ تھے تو بڑے پیمانے پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کو زبردستی ان کے صوبے بھیج دیا گیا اس دوران حکومتی اوراپوزیشن اراکین میں گرماگرم بحث ہوئی ۔

اجلاس جاری تھا کہ کہ کورم کی نشاندہی کی گئی مقررہ وقت تک گھنٹیاں بجانے کے بعد بھی جب کورم پورا نہ ہوا تو اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎