پاکستانی بیٹنگ ہے یا ایرانی سینیما؟

ایرانی سینیما دیکھیے تو عموماً ایسے کرداروں سے پالا پڑتا ہے جو وقت کی تلخیوں اور حالات کی مصلحتوں میں ایسے الجھے پائے جاتے ہیں کہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ ان کرداروں کی بوالعجبیاں صرف کہانی کو ہی نہیں، ناظر کو بھی اکثر بند گلی میں لا کھڑا کرتی ہیں۔


کچھ ایسا ہی مسئلہ اس وقت پاکستانی بیٹنگ لائن پہ بھی طاری ہے۔ کبھی کوئی ایک کردار ناکام ہوتا ہے تو ساتھ ہی دوسرا اس اعتماد سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ امید جلنے لگتی ہے۔ مگر جونہی لگتا ہے کہ اجالا ہونے کو ہے، اچانک وہی کردار ایسے بجھ جاتا ہے کہ شاید اب پھر کبھی کوئی امید کا گل نہیں کھلے گا۔

اسی پیچ و تاب میں میچ شروع ہوتا ہے اور ایسے ہی الجھتے الجھتے اچانک کسی بند گلی میں داخل ہو جاتا ہے جہاں سے نکلتے نکلتے شام ہو جاتی ہے اور تب تک شکست نوشتۂ دیوار ہو چکتی ہے۔

سینچورین میں بابر اعظم اور شان مسعود نے جو بے باکی دکھائی، اس کے بعد یقین نہ بھی سہی، امید تو جاگی تھی کہ کیپ ٹاون میں کچھ بہتر مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ پھر کیپ ٹاون میں شان مسعود کے ساتھ ساتھ سرفراز بھی ڈٹ کھڑے ہوئے مگر کھڑے کھڑے اچانک پھر بند گلی میں داخل ہو گئے۔

اب تو خیر یہ بھی اضافی تفریح ہونے لگی ہے کہ ہر ہار کے بعد کوئی نہ کوئی ایسا مضحکہ خیز بیان سننے کو مل جاتا ہے کہ شکست کے دلدر دور ہو جاتے ہیں اور اس بیانی فلسفے کی گتھیاں سلجھانے میں ہی چند روز گزر جاتے ہیں۔

سینچورین کی ہار کا غم غلط کرنے کو مکی آرتھر نے ڈریسنگ روم میں کچھ ہلا گلا کیا۔ میڈیا کو بھلا ہارسے کوئی خبر کیا ملتی، مکی آرتھر کی جارحیت نے قیمتی ائیر ٹائم کا خالی پن خوب دور کیا۔ کیپ ٹاون میں بھی ہار کے بعد کیا گھسی پٹی باتیں دہراتے کہ تکنیک درست نہیں یا بیٹنگ آرڈر کا کوئی المیہ ہے۔ صد شکر کہ اس کی نوبت بھی نہ آئی اور سرفراز کام آ گئے۔

سرفراز نے پچھلی ہار پہ بنیادی وجہ یہ بیان کی کہ بولرز کی رفتار بہت کم رہی سو نہ تو جیت ممکن ہو سکتی تھی نہ ہی کبھی 20 وکٹیں مل پاتیں۔ اس بیان کے تکنیکی و تعمیری اغراض و مقاصد پہ روشنی ڈالنے کو تو ایک دفتر درکار ہے مگر ہمارے لیے کم از کم یہ عقدہ سلجھ گیا تھا کہ پاکستانی بیٹنگ کی ناکامی کی اصل وجہ پاکستانی بولرز کی سست رفتاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

پہلے دن جب پاکستانی بولرز نے بہترین کارکردگی دکھائی، نہ صرف سٹین اور ربادا جیسی رفتار دکھائی بلکہ آخری سیشن میں 33 رنز کے عوض چھ وکٹیں لے کر پہاڑ سے ٹارگٹ کو بننے سے پہلے ہی روک لیا تو یقین کیجیے امید کی جا رہی تھی کہ اب پاکستانی بیٹنگ سرفراز کے فلسفے کی لاج رکھ لے گی۔

مگر جب دو وکٹیں کل شام ہی گر گئیں تو ذرا دھچکا سا لگا۔ پھر یہ سوچ کر دل کو دلاسہ دیا کہ شام کا سیشن ہوتا ہی ذرا مشکل ہے، کل صبح ضرور پاکستانی بلے باز وکٹوں کے پاسباں بن کر کھڑے ہو جائیں گے اور جیت کی خاطر تن من کی بازی سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

دوسرے دن صبح جب کھیل کا آغاز ہوا تو دل سے یہی دعا نکلی کہ نائٹ واچ مین محمد عباس کسی طرح پہلا گھنٹہ نکال جائیں، وکٹ سے نمی اڑ جائے پھر یہ بلے باز ادھورے خوابوں کو ضرور شرمندۂ تعبیر کر ڈالیں گے۔ ہوا بھی یہی، عباس اور امام الحق کی پارٹنرشپ کو قسمت کھینچ تان کر ایک گھنٹہ چلا بھی گئی۔

مگر پھر شاید اولیویئر کی نظرِ بد لگ گئی کہ مڈل آرڈر دھڑام سے گر گیا۔ اپنے تئیں سرفراز اور بابر اعظم نے پوری کوشش کی کہ وہ اس کٹاؤ کے آگے بند باندھ لیں۔ اچھی بھلی پارٹنرشپ بھی لگ گئی مگر ففٹی مکمل ہوتے ہی نجانے کیوں سرفراز کچھ زیادہ ہی پر اعتماد ہو گئے۔ اور پھر وہی کردار، وہی بند گلی، وہی ڈراؤنے سپنے ستانے لگے۔

ویسے تو جنوبی افریقہ کے سبھی دورے ہی پاکستانی ڈریسنگ روم کے لیے بلا خیز ہوتے ہیں مگر اس بار کی خاص بات یہ ہے کہ ڈریسنگ روم کے ماحول سے لے کر پچز کی خرابی اور بولرز کی سست رفتاری تک سبھی کچھ زیرِ بحث آ چکا مگر پھر بھی سمجھ نہیں آئی کہ پے در پے ناقص کارکردگی کی اصل وجہ کیا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎