بیرون ملک اثاثے رکھنے والے ایف بی آر میں پیش نہ ہوں تو ان کی جائیداد ضبط کی جائے، عدالت

بیرون ملک جائیداد رکھنے والے خبردار ہوجائیں، سپریم کورٹ نے ایف بی آر میں پیش نہ ہونے والوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دے دیا ۔ وزیراعظم کی بہن علیمہ خان نے عدالت میں کہا دبئی اور امریکہ میں اثاثے اپنی آمدن اور شوہر کے اثاثوں سے بنائے۔


سپریم کورٹ میں پاکستانیوں کے غیرملکی اثاثے اور بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران ممبرایف بی آرنے بتایا ایک سو سولہ افراد نے ایمنسٹی اسیکم سے فائدہ اٹھایا ، جبکہ علیمہ خان نے ایمنسٹی اسکیم میں جائیداد ظاہر نہیں کی ۔

عدالت نےایف بی آر سے ایک ماہ میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی ۔

دوران سماعت ممبر ایف بی آر نے عدالت کو بتایا کہ 895 لوگوں کا ڈیٹا فراہم کیا تھا جن کی دبئی میں 1365 جائیدادیں تھیں، اب تک صرف 27 افراد سے 27 کروڑ سے زائد کی ریکوریاں ہوچکی ہیں، مزید 768 ملین کی ریکوری ابھی باقی ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 116 افراد نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا، علیمہ خان نے اسکیم میں جائیداد ظاہر نہیں کی، 125 ایف بی آر میں پیش نہیں ہوئے ۔

چیف جسٹس نے کہا فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ریکوری رفتار بہت سست ہے ، عدالت نوٹس نہ لیتی تو ایف بی آر آج بھی بیٹھا ہوتا، جو لوگ غیرملکی جائیداد کو تسلیم کرچکے ہیں وہ جرمانہ ادا کرکے پاکستان کی حالت بہتر کریں۔

عدالت پیشی کے بعد علیمہ خان نے میڈیا کے سامنے بھی صفائی پیش کردی، میڈیا سے بات کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے باہر انہوں نے کہا کہ میرے خلاف جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں ، بیرون ملک اثاثے اپنی آمدن اور شوہر کے اثاثوں کی مدد سے بنائے ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے نہیں والدین کی طرف سے شیئر آتے ہیں ، ویلتھ ریکارڈ چیک کرلیں ، اپنی کمائی کی ہے ، 20 سال کام کیا ہے، فارن ایکس چینج کس چیز سے آرہا ہے ، ایکسپورٹ سے آرہا ہے ، سلائی کی مشینوں سے آرہا ہے ۔

سپریم کورٹ نےایف بی آر سےایک ماہ میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی ۔ ساتھ ہی وارننگ بھی دے ڈالی کہ جولوگ ایف بی آرمیں پیش نہیں ہوئےانکی جائیدادیں ضبط کرلی جائیں گی ۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎