سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کیس: 2 ہفتے میں منصوبے کی پیش رفت رپورٹ جمع کروانے کا حکم

سپریم کورٹ نے بنی گالا میں سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے متعلق کیس میں 2 ہفتے میں منصوبے کی پیش رفت رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری منصوبہ بندی کو طلب کر لیا۔


سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے بنی گالا میں سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا منصوبے کا پی سی ون کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا؟ جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جی ٹیکنیکل ماہرین اس کو دیکھیں گے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ منصوبہ کتنی لاگت میں مکمل ہو گا؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ منظوری کے بعد منصوبہ 3 ارب روپے میں مکمل ہو گا۔

اس موقع پر کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ منصوبے کی لاگت 3 ارب روپے سے کم کی جائے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا بڑے منصوبے کی بجائے اس کو چھوٹے یونٹس میں نہیں بنا سکتے؟ جس پر نمائندہ سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ یہ 3 مرحلوں میں مکمل ہو گا، پہلے مرحلے میں 4 یونٹس ہوں گے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ یہ کب تک منظور ہو گا؟ جس پر نمائندہ سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ اس پر مزید بات چیت جاری ہے، ای پی سی بورڈ میں گیا تو مزید 6 ماہ لگ سکتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس منصوبے میں ماہرین کی نمائندگی کم ہے، پنجاب کچھ اور کہہ رہا ہے، جس پر نمائندہ سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ اس منصوبے میں جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے بغیر 5 ایکڑ زمین درکار ہو گی جو 15 لاکھ روپے مرلہ ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہم چاہتے ہیں منصوبہ جلد شروع ہو، کمیٹی میں رہے تو کچھ بھی نہیں ہو گا اور ساتھ ہی استفسار کیا کہ کیا 2 ہفتے میں اس کی منظوری ہو جائے گی؟

جس پر سی ڈی اے کے نمائندے نے انہیں بتایا کہ 2 ہفتے میں منظوری کروا لیں گے۔

اس موقع پر عدالت نے منصوبے کی منظوری نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبہ ابھی تک صرف باتوں تک محدود ہے۔

عدالت نے 2 ہفتے میں منصوبے کی پیش رفت رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری منصوبہ بندی کو طلب کر لیا۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 2 ہفتے تک کے لیے ملتوی کردی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎