کرک میں ایک ہفتے کے اندر 554 افراد لیشمینیا کا شکار، اودیات کی قلت

خیبرپختونخوا کے جنوبی ضلع کرک میں ایک ہفتے کے اندر554 افراد سینڈ فلائی مچھر کا شکار ہوگئے ہیں۔ بہادر خیل میں 167 افراد جبکہ نری پنوس گاوں سے صرف ایک دن میں 387 کیسز رپورٹ سامنے آچکے ہیں۔


رواں سال اب تک 625 شہری اس مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ محکمہ صحت کے اعداد وشمار گزشتہ تین سالوں میں اب تک کرک کے 6 ہزار افراد لیشمینیا کا شکار ہوچکے ہیں۔ متاثرہ افراد میں خواتین اور بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

وبائی صورت حال کے بعد محمکہ صحت اور ضلعی حکام متحرک ہوگئے ہیں۔ محمکہ صحت کے حکام نے علاقے میں متاثرہ افراد کے اعداد و شمار کو اکٹھا کرنا شروع کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے اسپتال کا عملہ آپس میں گتھم گتھا

ایک متاثرہ شخص اسفندیار کے مطابق کرک کے مقامی اسپتالوں میں لیشمینیا کے علاج کے طور پر استعمال کی جانے والی ادویات کی قلت ہے۔ مریضوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ سہولیات کی شدید کمی ہے۔ اس لئے بیشتر افراد علاج کےلئے کوہاٹ اور پشاور کے اسپتالوں میں جانے پر مجبورہوچکے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے ادویات کی کمی سے متعلق ڈی جی ہیلتھ کو مراسلہ بھی ارسال کردیا ہے۔

لشمینیا مرض سینڈ فلائی نامی ایک خاص مچھر کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔ اس خطرناک مچھر کی افزائش نسل پالتو جانوروں، کتوں اور گندے پانی کے تالابوں میں ہوتی ہیں۔ یہ مرض قابل علاج ہے مگربروقت علاج نہ ہو توچہرے یا کسی بھی جگہ کے جلد پر بدنما داغ بن جاتے ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎