پاکستان غیرت مند اور آزاد ملک، ڈکٹیٹشن نہیں لیں گے، اسد عمر

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان غیرت مند اور آزاد ملک ہے، گھٹنے ٹیکنے کی ضروت نہیں، کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے لیکن ساتھ ہی انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کا بھی اعادہ کیا۔


پوسٹ بجٹ پریس بریفنگ کے دوران اسد عمر نے کہا کہ منی بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ برآمدات اور درآمدات میں فرق بڑھتاجا رہا ہے۔ صورت حال میں بہتری لانے کے لیے بنیادی روڈ میپ اپنایا ہے۔ اسی پارلیمنٹ کی مدت میں وہ تبدیلی نظر آئے گی جو آج تک ہو نہ سکی۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ بجٹ خسارہ اور بیرونی خسارہ خطرناک صورتحال اختیار کرچکا تھا۔ حکومت اس صورتحال سے نکلنا چاہ رہی تھی۔ سابقہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے 19 ارب ڈالرز کا خسارہ تھا۔ حکومت نے خسارہ کنٹرول کرنے کے لیے کچھ اقدامات کیے۔ کچھ پالیسیوں کے اثرات میں وقت لگے گا۔ دوست ممالک نے غیر معمولی امداد کی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی دنیا میں ساکھ ہے۔ فوری خطرے کی گھنٹی بجنا رک گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی بھی بہت آگے جانے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے کئی ممالک پاکستان سے آگے نکل چکے ہیں۔ اس وقت جی ڈی پی کے 15 فیصد کے مساوی سرمایہ کاری ہے جبکہ ملک میں معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے 20 سے 30 فیصد سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ آئی ایم ایف سے رابطہ ہے۔ کل بھی کانفرنس کال ہوگی۔ آئی ایم ایف کے پاس تب جائیں گے جب عوام کے مفاد میں بہتر ہوگا۔ عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ اختلافی نکات پر فرق کم ہوگیا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎