پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں برف پگھلنے لگی

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے بیل آوٹ پیکیج کے معاملے پر برف پگھلنے لگی، وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ گفتگو بہتری کی طرف جارہی ہے، ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل گفتگو میں ہیں پہلے بھی تھے آج بھی ہیں اور ہماری ان سے اب جو گفتگو ہو رہی ہے اس میں آئی ایم ایف کی ابتدائی شرائط میں کچھ بہتری آنا شروع ہو گئی ہے۔


وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے پاس آئندہ کئی ماہ کیلئے مالی وسائل موجود ہیں تاہم ہم آئی ایم ایف سے بھی رابطے میں ہیں، جب ہم سمجھں گے کہ آئی ایم ایف کی شرائط معیشت کو دھچکا نہیں دیں گی اور عوام پر بہت زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا تو پھر ہم آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کریں گے اور پروگرام سائن کر دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر خزانہ اسد عمر اور آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ہیرالڈ فنگر کے درمیان دوبارہ رابطہ ہوا ہے۔ وزیر مملکت ریونیو نے مسلم لیگ نون کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پانچ سال میں سرکاری اداروں کے نقصانات 190 ارب سے بڑھ کر 453 ارب روپے تک پہنچ گئے۔

ریلوے کا خسارہ 32 ارب سے بڑھ کر 40 ارب جبکہ پی آئی اے کا خسارہ 27 ارب سے بڑھ کر 40 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ موجودہ دور میں مہنگائی میں صرف 1.4 فیصد اضافہ ہوا، لیگی دور میں مہنگائی میں 5 فیصد جبکہ پیپلز پارٹی کے دور میں 9 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا تھا۔

حماد اظہر نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ ڈھائی ارب ڈالر سے بڑھ کر 19 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ تجارتی خسارے میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا۔ لیگی حکومت آخری سال 2300 ارب روپے خسارے کا بجٹ چھوڑ کر گئی۔

لیگی وزراء علاج کرانے بھی بیرون ملک جاتے ہیں جبکہ عمران خان جب بیمار ہوئے تو انہوں نے ایئر ایمبولنس کی سہولت کے باوجود پاکستان میں اپنا علاج کرایا، عمران خان کی وجہ سے پاکستان کو دوست ممالک سے بہت مدد ملی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎