پاکستان کی کم عمر تائیکوانڈو کھلاڑی کی اولمپکس پر نظریں

پاکستان کی کم عمر ترین تائیکوانڈو کھلاڑی عائشہ ایاز جس نے متحدہ عرب امارات میں 7ویں فجیرہ اوپن انٹرنیشنل تائیکوانڈو چیمپیئن شپ جیتی تھی، کا کہنا ہے کہ وہ اولمپکس میں حصہ لے کر ملک کا نام بلند کرنا چاہتی ہیں۔


کانجو میں متحدہ عرب امارات سے واپسی پر ان کے اعزاز میں منعقد کی گئی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات کہی۔

عائشہ کے والدین اور دیگر اہلخانہ، ضلعی اسپورٹس افسرم تائیکوانڈو کھلاری اور سول سوسائٹی کے افراد نے اس تقریب میں شرکت کی۔

سوات کی رہائشی 8 سالہ عائشہ نے اپنی جیت کی خوشی میں کیک کاٹا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت خوش ہیں اور اپنی جیت پر فخر محسوس کر رہی ہیں۔

انہوں نے اپنے میڈل کو وزیر اعظم عمران خان کے نام کرنے کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرا اگلا ہدف اولمپکس کے کھیل ہیں جس کے لیے میں بہت محنت کر رہی ہوں اور اپنے والد کی سرپرستی میں روزانہ پریکٹس کر رہی ہوں، مجھے امید ہے کہ حکومت اولمپکس کی تیاری میں میری مدد کرے گی‘۔

عائشہ کے والد ایاز نائیک، جو بین الاقوامی تائیکوانڈو کے کھلاڑی بھی رہ چکے ہیں اور سوات میں تربیتی اکیڈمی چلاتے ہیں، کا کہنا تھا کہ عائشہ میں تائیکوانڈو کا بہت ٹیلنٹ موجود ہے اور اگر حکومت نے مدد کی تو انہیں یقین ہے کہ وہ اولمپکس میں بین الاقوامی اسٹار بن کر سامنے آئیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جی-1 میں کانسی کا تمغہ جیتنا آسان نہیں تھا اور اس کی جیت کا مطلب ہے کہ اس میں بہت ٹیلنٹ ہے اور اگر اس ٹیلنٹ کو ابھارا گیا تو وہ پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی ستارہ بن کر ضرور سامنے آئیں گی‘۔

انہوں نے بتایا کہ تائیکوانڈو میں جی-1 کی اہمیت کرکٹ اور فٹبال کے لیے ورلڈ کپ جتنی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک کسی بھی منتخب نمائندوں نے بچی کی حوصلہ افزائی کے لیے یہاں نہیں آئے ہیں۔

یہ خبر ڈان اخبار میں 10 فروری 2019 کو شائع ہوئی



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎