صحافی رضوان رضی کی ضمانت منظور

دفاعی' اور 'ریاستی اداروں' کے خلاف ٹویٹس کرنے کے الزام پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے گزشتہ روز گرفتار کیے جانے والے صحافی رضوان رضی کی ضمانت منظور ہو گئی ہے۔


مجسٹریٹ کی عدالت نے ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلقے اور شخصی ضمانت پیر کی صبح ٹرائل کورٹ میں جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔

صحافی رضوان رضی عدالتی فیصلہ کے بعد فی الحال سائبر ونگ کی تحویل میں ہیں۔ پیر کی صبح ٹرائل کورٹ میں ان کی جانب سے ضمانتی مچلقے جمع کروانے کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئے گی۔

اتوار کے روز انھیں ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ایف آئی اے کی جانب سے تین روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔ ایف آئی اے کی جانب سے آئی او رائے نصراللہ عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر ایف آئی اے (سائبر کرائم ونگ) ڈاکٹر شعیب کا کہنا تھا کہ سینئیر صحافی رضوان رضی کی گرفتاری قانون کے مطابق عمل میں لائی گئی ہے انھوں نے مزید کہا کہ سائبرکرائم میں جب تک شکایت موصول نہ ہو، اس کی تصدیق اور چھان بین نہ کی جائے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔

یہ بھی پڑھیے!

ڈاکٹر شعیب کا کہنا تھا کہ صحافی رضوان رضی کے خلاف سائبر قوانین کے تحت ایف آئی آر درج ہے جو کہ ریاستی اداروں کی شکایات پر ایف آئی اے کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔

'گرفتاری سے قبل تمام قانونی تقاضے جیسا کہ مجسٹریٹ کی اجازت اور گرفتاری کے ورانٹس حاصل کیے گئے تھے۔'

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'وہ دفاعی اور ریاستی اداروں کے حوالے سے بہت منفی ٹویٹس کرتے تھے۔' انھوں نے مزید بتایا کہ وہ ایسا کافی عرصے سے کر رہے تھے اور انھیں جب پہلے بلایا گیا تھا تو صحافی رضوان نے اس حوالے سے معافی مانگتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ انھیں سائبر قوانین کا علم نہیں تھا۔ جس کے بعد انہوں نے اپنی ٹویٹس میں بھی اس معافی کا ذکر کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ رضوان رضی نے معافی مانگنے کے کچھ عرصہ بعد دوبارہ اس طرح کی ٹویٹس کرنا شروع کی جس کے بعد انھیں عدالت کے حکم ہر گرفتار کیا گیا۔

جبکہ ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیشی کے موقع پر گرفتار صحافی رضوان رضی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'میرے مقدمہ کے حوالے سے میرے وکیل میاں علی اشفاق نے جراح کرتےہوئے یہ نکات اٹھائے ہیں کہ ایف آئی اے کی جانب سے اس کیس میں پیروی کے لیے کوئی فرد نامزد نہیں کیا گیا ہے اور اس سے ایف آئی آر کی بنیادی قانونی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔ جس کا مطلب ہے کہ کسی فرد یا ادارے کو مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہے۔`

انھوں نے موقف اپنایا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر میں درج کی جانے والی دفعات قیام پاکستان پر تنقید یا اس کو متنازع بنانے کے حوالے سے ہیں جبکہ عدالت میں ان کے خلاف پیش کیے جانے والے مواد میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

ان کی طرف سے پہلے معافی نامہ جمع کروانے کے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس معافی نامے میں معزز عدلیہ کے حوالے سے کی گئی ٹویٹس پر بات کی گئی تھی جنھیں بعد میں انھوں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے نہ صرف ہٹا لیا بلکہ دوبارہ نہ کوئی ایسی ٹویٹ خود کی نہ کسی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا۔

سنیچر کی صبح رضوان رضی کے بیٹے نے ٹوئٹر پر اپنے والد کے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کیا تھا کہ ان کے والد کو گھر کے سامنے سے مبینہ طور پر 'اغوا' کر لیا گیا ہے۔

رضوان رضی کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر کئی لوگ ان کی حمایت میں پیغامات جاری کر کے ان کی رہائی کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎