پی ایس ایل 4: کیا اے بی ڈی ویلیئرز لاہور قلندرز کی قسمت بدل پائیں گے؟

پاکستان سپر لیگ میں اس بار سب سے بڑی کشش جنوبی افریقی بیٹسمین اے بی ڈی ویلیئرز کی موجودگی ہے جو لاہور قلندرز کی نمائندگی کر رہے ہیں۔


سب سے اہم بات یہ ہے کہ اے بی ڈی ویلیئرز نے پاکستان آنے پر بھی رضامندی ظاہر کر دی ہے جس پر پاکستانی شائقین بہت خوش ہیں۔ ابتدا میں انھوں نے صرف متحدہ عرب امارات میں سات میچز کھیلنے پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن بعد ازاں انھوں نے لاہور میں دو میچز کھیلنے کی نوید سنا دی۔

اے بی ڈی ویلیئرز سنہ2007 میں جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کے ساتھ پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے لیے ہونے والی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ڈی ویلیئرز سے پہلے ان کے ہم وطن فاف ڈپلوسیسی، ہاشم آملا، عمران طاہر اور ڈیوڈ ملر انٹرنیشنل الیون کے ساتھ پاکستان آچکے ہیں جبکہ عمران طاہر،رائلے روسو، کالن انگرم اور جے پی ڈومینی پی ایس ایل کا بھی حصہ رہے ہیں۔

اے بی ڈی ویلیئرز نے گذشتہ سال صرف 34 سال کی عمر میں بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ کر سب کو حیران کر دیا تھا کیونکہ یہ بات سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اے بی ڈی ویلیئرز میں اب بھی اتنا دم خم باقی ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کی سختی مزید چند برس آسانی سے جھیل سکتے تھے۔

ڈی ویلیئرز کے کھاتے میں تینوں فارمیٹس کے انٹرنیشنل مقابلوں میں مجموعی طور پر بنائے گئے 20014 رنز درج ہیں جن میں 47 سنچریاں اور 109 نصف سنچریاں بھی شامل ہیں، لیکن شائقین آج تک ان کی ون ڈے انٹرنیشنل کی تاریخ کی تیز ترین سنچری نہیں بھول سکے ہیں جو انھوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف جوہانسبرگ میں صرف 31 گیندوں پر سکور کی تھی۔

اے بی ڈی ویلیئرز بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد فرنچائز کرکٹ میں پوری طرح سرگرم ہیں۔ انھوں نے گذشتہ دسمبر میں جنوبی افریقی ٹی ٹوئنٹی لیگ کے ایک میچ میں چار چھکوں اور 11 چوکوں کی مدد سے ناقابل شکست 93 رنز بنائے تھے جس کے بعد انھوں نے بنگلہ دیشی پریمیئر لیگ بھی صرف 50 گیندوں پر چھ چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے ناقابل شکست سنچری بنا ڈالی۔

اے بی ڈی ویلیئرز پاکستان سپر لیگ کے بعد آئی پی ایل میں حصہ لیں گے۔ وہ رائل چیلنجرز بنگلور کا حصہ ہیں جس کی طرف سے انھوں نے گذشتہ آئی پی ایل میں چھ نصف سنچریوں کی مدد سے 480 رنز بنائے تھے۔

تین سال قبل آئی پی ایل میں ان کی ایک سنچری اور چھ نصف سنچریوں کی مدد سے بنائے گئے 687 رنز شائقین کے ذہنوں سے ابھی تک محو نہیں ہوئے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کے قواعد و ضوابط کے مطابق ڈرافٹنگ میں کھلاڑی کے انتخاب کا پہلا حق آخری نمبر کی ٹیم کو حاصل ہے۔ لاہور قلندرز کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ اس بار ڈرافٹنگ میں دو بڑے ناموں اے بی ڈی ویلیئرز یا سٹیون سمتھ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔

لاہور قلندرز کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہ تھا۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر ثمین رانا کے مطابق ان کا دل کہتا تھا اے بی ڈی ویلیئرز جبکہ دماغ کہہ رہا تھا سمتھ۔۔

لاہور قلندرز نے اے بی ڈی ویلیئرز کو اس امید پر حاصل کیا ہے کہ ماضی کی ناکامیوں کا ازالہ ہوسکے کیونکہ لاہور قلندرز پاکستان سپر لیگ کے پچھلے تینوں ٹورنامنٹس میں سب سے آخری نمبر پر آئی ہے حالانکہ اس نے نئے ٹیلنٹ کی تلاش اور انہیں آسٹریلیا میں کھیلانے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط ٹیم کی تشکیل پر بے پناہ خرچ کیا ہے لیکن نتائج اس کی توقعات کے برعکس رہے ہیں۔

کرس گیل اور برینڈن مک کلم جیسے جارحانہ بیٹسمینوں کی خدمات حاصل ہونے کے باوجود لاہور قلندرز کی قسمت نہیں چمکی۔ اب وہ قسمت بدلنے کے لیے اے بی ڈی ویلیئرز کی طرف دیکھ رہی ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎