اصغر خان کیس: فوجی افسران کے خلاف تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

اسلام آباد — سپریم کورٹ نے ساستدانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق کیس میں پاکستان فوج کے ملوث افسران کے خلاف ایک ماہ میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیدیا ہے۔


سپریم کورٹ میں اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ بینچ نے سربراہ نے ریمارکس دئیے کہ ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بینکوں میں 28 سال سے زیادہ پرانا ریکارڈ نہیں اس لیے ثبوت نہیں مل رہے۔۔ اگر ایسا ہے تو بینکوں کے سربراہوں کو بلا لیتے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ ملوث فوجی اہلکاروں کا کورٹ مارشل کرنے کے بجائے انکوائری کیوں ہو رہی ہے ،کارروائی شروع کیوں نہیں ہوئی؟

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے کہ فوج نے رپورٹ دی ہے کہ افسروں کے خلاف انکوائری جاری ہے۔ اٹارنی جنرل صاحب آپ بتائیں ملوث افراد کا کورٹ مارشل کرنے کے بجائے انکوائری کیوں ہورہی ہے،کارروائی شروع کیوں نہیں ہوئی؟

اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا کہ کورٹ مارشل سے پہلے تفتیش قانونی تقاضا ہے، شواہد سامنے آنے پر کورٹ مارشل ہو گا۔

دوران سماعت متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کا ذکر بھی ہوا۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ پیسے تو ایم کیو ایم اور اس کے بانی کو بھی ملے تھے۔ کیس میں ان کا نام آیا نہ ایف آئی اے رپورٹ میں؟

اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے رپورٹ میں متحدہ کے بانی کا نام تھا، وہ ابھی پاکستان میں نہیں۔ حکومت برطانیہ سے متحدہ کے بانی و دیگر ملزموں کی حوالگی کیلئے بات چیت جاری ہے اور جلد پیش رفت ہو گی۔

وزارت دفاع نے جواب جمع کرانے کیلئے 4 ہفتوں کی مہلت مانگی جس پر عدالت نے کہا کہ انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ ایف آئی اے کی رپورٹ کا جائزہ، وزارت دفاع کے جواب کے ساتھ لیا جائے گا۔

عدالت نے سماعت 4 ہفتے تک کے لئے ملتوی کردی۔

اصغر خان کیس کیا ہے؟

سپریم کورٹ نے 2 جون کو 1990 کی انتخابی مہم کے دوران پیسے وصول کرنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف، سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی اور عابدہ حسین سمیت21 سویلین، انٹرسروسز انٹیلی جنس کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی سمیت کیس سے متعلقہ فوجی افسران، ڈی جی نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کیے تھے۔

1990 میں انتخابات میں دھاندلی کے لیے سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق اس وقت کے ایئرفورس کے سربراہ اصغر خان نے اعلیٰ عدالت سے رجوع کیا تھا۔

2012 میں سپریم کورٹ نے اس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا جس میں سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی پر رقوم دینے کا الزام ثابت ہوا تھا۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔

اس کیس کے فیصلے کے بعد مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی کی جانب سے نظر ثانی کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں جسے عدالت عظمیٰ نے مسترد کردیا تھا اور وفاقی حکومت کو اصغر خان کیس فیصلے پر عملدرامد کا حکم دیا تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎