صبیحہ زاہد: ایشیئن گیمز میں خواتین سائیکلنگ چیمپئین شپ جیتنے والی صبیحہ زاہد وفات پا گئیں

پانچ سال تک پاکستانی خواتین کی قومی سائیکلنگ چیمپئین اور جنوبی ایشیائی کھیلوں میں چاندی کا تمغہ حاصل کرنے والی 27 سالہ صبیحہ زاہد کیسنر کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئیں۔


صبیحہ نے اپنی بیماری کے باوجود گذشتہ سال دسمبر میں قومی خواتین چیمپئین شپ میں حصہ لیا تھا اور پانچویں بار یہ اعزاز اپنے نام کیا تھا۔

ان کے خاندان کے مطابق وہ چھ ماہ سے راولپنڈی کے ملٹری ہسپتال میں کینسر کا علاج کروا رہی تھیں۔

صبیحہ زاہد کا تعلق صوبہ خیبر پختون خواہ کے ضلع ہری پور کے علاقے پنیاں سے تھا۔ مرحومہ کے خاندان کو ذاتی طور پر جاننے والے ہری پور پریس کلب کے صدر ذاکر تنولی نے بی بی سی کو بتایا کہ صبیحہ زاہد کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقے میں اتوار کے روز ادا کی گئی۔

تاہم نماز جنازہ میں شریک سینکڑوں مقامی لوگ اس بات سے بے خبر تھے کہ وہ بین الاقوامی شہرت یافتہ چیمپئین کی نماز جنازہ ادا کر رہے ہیں۔

’نماز جنازہ میں پورے ملک سے لوگ شریک تھے۔ کچھ مقامی لوگوں کو جب معلوم پڑا کہ صبیحہ زاہد بین الاقوامی طور پر پاکستان کا نام روشن کر چکی ہیں تو ان پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے کیونکہ یہاں اب بھی خواتین کی بڑی تعداد کا شٹل کاک برقعے کے بغیر باہر نکلنا ممکن نہیں ہے۔‘

ذاکر تنولی کا کہنا تھا کہ صبیحہ زاہد کا تعلق ایک روایتی، قدامت پسند، غریب خاندان سے تھا۔ ان کے والد نے غربت اور انتہائی مشکلات کے باوجود صبیحہ کو ہزارہ یونیورسٹی، مانسہرہ سے فیزیکل ایجوکیشن میں اعلیٰ تعلیم دلائی تھی۔

صبیحہ نے 2014 میں پہلی مرتبہ قومی چیمپئین شپ جیتنے کے بعد اخبار دی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خود کو درپیش مسائل کے حوالے سے کہا تھا کہ میں پختوں خاندان سے تعلق رکھتی ہوں اور ہمارے خاندان میں لڑکیوں کا گھر سے باہر نکلنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

مگر صبیحہ کو اپنے خاندان کی مدد حاصل تھی۔ اس موقع پرانھوں نے اپنے خاوند محمد زاہد، جو کہ خود بھی پاک فوج میں پیشہ وار سائیکلسٹ ہیں، کی مدد کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’زاہد میری ہر طرح سے مدد کرتے ہیں اور ان کے تعاون کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔‘

پاکستان سائیکلنگ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سید اظہر علی شاہ صبیحہ کی سائیکلنگ میں پیشہ ورانہ ترقی کے گواہ ہیں۔ ان کی صبیحہ زاہد سے پہلی ملاقات 2012 میں پشاور میں صوبہ خیبر پختوں خواہ کے انٹر ڈویثرن کھیلوں کے مقابلے میں ہوئی تھی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’صبحیہ 2012 میں ہزارہ ڈویثرن کی نمائندگی کرنے پشاور پہنچی تھیں۔ میں ان کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ بالکل صاف محسوس ہورہا تھا کہ ٹیلنٹ، ہمت، جرات اور حوصلے کی کوئی کمی نہیں ہے، اگر کمی ہے تو صرف مناسب تربیت کی۔‘

’اس دوران پاک فوج کی خواتین کا تربیتی کیمپ بھی لگا ہوا تھا۔ میں نے کیمپ کے نگران کرنل طاہر سے گزارش کی کہ اس بچی کو بھی کیمپ میں شامل کر لیں اور کچھ تربیت فراہم کردیں۔ اِس پر انھوں نے صبیحہ کو سائیکلنگ کرتے دیکھا اور کیمپ میں مدعو کرلیا۔‘

’کیمپ کے بعد جب میں نے صبیحہ کو خیبر پختون خواہ کی ٹیم میں شامل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو کرنل طاہر نے کوئی اعتراض نہ کیا۔‘

سید اظہر علی شاہ کا کہنا ہے کہ صبیحہ نے 2014 میں پہلی مرتبہ خواتین کی قومی چیمپئین شپ میں حصہ لیا اور پہلے ہی سال ٹائٹل جیت کر سب کو حیران کر دیا۔ یہ ہی نہیں، بلکہ 2016 میں انڈیا میں ہونے والے جنوبی ایشیائی کھیلوں میں صبیحہ ہماری سب سے بہترین کھلاڑی تھیں۔

سید اظہر علی شاہ کو گذشتہ سال دسمبر میں قومی چیمپئین شپ کی افتتاحی تقریب میں صبیحہ زاہد سے ملاقات بھی اچھی طرح سے یاد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صبیحہ کا چہرہ سوجا ہوا تھا، وہ کچھ نڈھال سی تھی اور جتنی پرجوش ہوتی تھی اتنی نہیں تھی۔ ’میں نے پوچھا کہ چہرہ کیوں سوجا ہوا ہے، اس طرح تھکی تھکی کیوں ہو؟ تو اس نے جواب دیا کہ کچھ بھی نہیں، اس دفعہ بھی چیمپئین شپ پھر جیتنے آئی ہوں۔ آپ کی دعا چاہیے۔‘

’جب مقابلے شروع ہوئے تو واقعی دوبارہ چیمپئیں تھی مگر اُس وقت مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ وہ ہسپتال کے بستر سے اٹھ کر آئی تھی۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ کینسر میں مبتلا ہوچکی ہے۔ شاید وہ دنیا کی پہلی خاتون کھلاڑی ہے جس نے کینسر کے مرض میں قومی چیمپئین شپ جیتی ہے۔‘

ندا فاطمہ پاک فوج میں صبیحہ زاہد کی ساتھی خاتون کھلاڑی تھیں۔ کئی ملکی اور بین الاقوامی دوروں میں ان کے ہمراہ رہی ہیں۔ ندا فاطمہ نے صبیحہ کو ’آئرن لیڈی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دسمبر 2018 میں منعقدہ چیمپین شپ میں صبیحہ نے کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود سات میں سے پانچ ایوینٹ جیتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ 2017 چک شہزاد میں روڈ چیمپئین شپ کے ٹیم ایوینٹ میں پانچ لڑکیاں پاک فوج کی نمائندگی کر رہی تھیں اور صبیحہ ان کی قیادت کر رہی تھیں۔ ’یہ ایوینٹ 40 کلومیٹر کا تھا اور سات کلومیٹر کے بعد ہم لوگ دو منٹ سے جیت رہے تھے۔ اس وقت صبیحہ لیڈ کر رہی تھیں لیکن پھر لیڈ میں تبدیلی آئی اور اس کے دوران ہمارے سائیکلوں کے ٹائر ٹکرائے اورپانچ میں سے تین کھلاڑی گر گئیں۔ میں اور صبیحہ محفوظ رہے لیکن باقیوں کو خراشیں آئیں، آنکھوں پر چوٹیں لگیں، گھٹنے زخمی ہوئے اور فریکچر آئے۔‘

ندا کا کہنا ہے کہ ’اب صورت حال یہ تھی کہ ہم لوگ جو پہلے دو منٹ سے جیت رہے تھے اب تین منٹ اپنے مد مقابل سے پیچھے رہ گئے تھے۔ سمرا تو کسی بھی صورت میں حصہ لے ہی نہیں سکتی تھیں اور مقابلہ جیتنے کے لیے کم از کم چار کھلاڑیوں کو دوسری ٹیم کے کھلاڑیوں سے مارجن لے کر اختتام کرنا تھا۔

’اس صورت حال میں صبیحہ نے انتہائی کمال کیا کہ انھوں نے بختاور کو سائیکل پر بٹھایا جو گھٹنے کی تکلیف کے باعث سائیکل نہیں چلا سکتی تھیں۔ بختاور نے سائیکل پر بیٹھ کر صبیحہ کی کمیز پکڑی ہوئی تھی اور صبیحہ سائیکل چلارہی تھیں۔ صبیحہ نے اس طرح 33 کلومیٹر کا انتہائی دشوار گزار پہاڑی اور تنگ راستہ طے کیا اور ہم نے 59 سیکینڈز سے فتح بھی حاصل کی۔‘

صبیحہ زاہد بچپن ہی سے کھیلوں کی شوقین تھیں۔ والی بال اس کا پسندیدہ کھیل تھا جبکہ سائیکل چلانا انھوں نے 2014 میں پہلی مرتبہ چیمپئین بننے سے صرف تین سال قبل اپنے ماموں کے گھر کے صحن میں سیکھی تھی۔ دی نیوز کے انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ’سائیکل چلانے کا شوق اپنے ماموں زاد بھائی کو چھوٹی سائیکل چلاتے دیکھ کر ہوا تھا۔ بس پھر کیا تھا کہ ماموں کی پرانی سائیکل تھی اور میں تھی۔‘

’مجھے کسی نے سائیکل چلانا نہیں سیکھایا، خود ہی سیکھی تھی۔ میں گرتی تھی، خود ہی اٹھتی تھی اور پھر سائیکل چلاتی تھی۔‘



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎