ڈھائی سالہ بچے کے خلاف مقدمہ، باپ بچے کے مستقبل کیلئے پریشان

کوئٹہ میں ڈھائی سالہ بچے کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمے کے اندراج کےبعد کیس کے تفتیشی کو معطل کر دیا جبکہ بچے کے والد تمام الزامات کو مسترد کردیا اور بچے کے مستقبل پر سوال اٹھاتے ہوئے اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کر دی۔


کوئٹہ میں ڈھائی سالہ بچے بلال اچکزئی کے خلاف پولیس موبائل پر فائرنگ کےالزام میں دہشت گردی کی نو دفعات کے تحت مقدمے کے اندراج کا واقعہ کا آئی جی پولیس بلوچستان محسن جاوید بٹ نے نوٹس لیا تھا جس کےبعد کیس کےتفتیشی اور پولیس تھانہ نیو سریاب کے اے ایس آئی لیاقت کو معطل کر دیا گیا ، لیاقت علی سے مزید جواب بھی طلب کر لیا گیا ہے ۔

دوسری جانب بلال اچکزئی کے والد علائو الدین اچکزئی نے بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان ضلع قلعہ عبداللہ کی تحصیل دوبندی میں مقیم تھے خشک سالی کی وجہ سے ان کا ذریعہ معاش بری طرح متاثر ہوا جس کی وجہ سے وہ خاندان سمیت ہجرت کرکے کوئٹہ آگئے اور یہاں سکونت اختیار کر لی سرکاری نے بلال اچکزئی کے نام پر علاقے میں اسکول بھی کھول رکھا ہے لیکن نیوب سریاب تھانے کے ایس ایچ او نے یہاں منتقل ہونے کے بعد ہم ر زمینوں پر قبضے کا الزام لگایا اوررشوت طلب کی انکار پر میرے بیٹے سمیت چار افراد کے خلاف پولیس موبائل پر فائرنگ کا الزم دھرتے ہوئے دہشت گردی کی نو دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

علائو الدین اچکزئی نے مزید بتایا کہ مقدمے میں نامزد تین افراد تو سمجھوتہ کرکے رہا ہوگئے لیکن بلال اچکزئی کا کیا بنے گا والد کو بیٹے کے مستقبل کی فکر لاحق ہو گئی ہے ، بلال اچکزئی کے والد نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بیٹے اور خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے ۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎