اسد عمر: پاکستان اور آئی ایم ایف معاہدے کے نزدیک

پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈکی جانب سے قرضہ ملنے کے قوی امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ اُن کے مطابق، آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھا ہے۔


پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں میں کسی بحران سے بچنے کیلئے اس قرضے کی شدید ضرورت ہے۔

گزشتہ روز پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان اور آئی ایم ایف کی سربراہ کریسٹین لیگارڈ کی دبئی میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان میں زرمبادلہ کے کم ہوتے ہوئے ذخائر کے بارے میں مذاکرات ہوئے۔

اب تک یہ ذخائر گر کر آٹھ ارب ڈالرز تک پہنچ چکے ہیں جو صرف دو ماہ کی درآمدات کی ادائیگیاں کرسکتے ہیں۔

دبئی میں ہونے والی ملاقات میں دونوں نے مذاکرات کے سلسلے کو جاری رکھنے کا عزم کیا۔

اگرچہ تاحال آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ہے لیکن اسد عمر کا کہنا ہے کہ اب دونوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔

'ہمارے اختلافات اب بہت کم ہو چکے ہیں،' یہ کہتے ہوئے انھوں نے پشاور کی بزنس کمیونٹی کو بتایا کہ 'اب دکھائی دے رہا ہے کہ ہم ایک معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔'

پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ قرضے کے حصول کیلئے مذاکرات گزشتہ برس اگست میں پی ٹی آئی کی حکومت کے بنتے ہی شروع ہو گئے تھے لیکن دونوں کے درمیان اصلاحات کی نوعیت اور رفتار پر اختلافات کی وجہ سے امدادی پیکیج پر معاہدہ پھنسا ہوا ہے۔

آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ پاکستان ٹیکس کی وصولی کے نظام کو بہتر کرے، بیرونی ممالک کی کرنسیوں کے ذخائر میں اضافہ کرے اور بیرونی ادائیگیوں اور آمدن میں خسارے کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرے جو اس برس پانچ فیصد سے بڑھ جانے کا امکان ہے۔

پاکستان کے حکام کا موقف ہے کہ وہ اصلاحات کیلئے راضی ہیں لیکن ایسی شرائط قبول نہیں کرنا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے اقتصادی ترقی کے رستے مسدود ہو جائیں، کیونکہ اس برس پہلے ہی سست شرح نمو، یعنی پانچ اعشاریہ دو فیصد سے کم ہو کر چار فیصد کا ہدف ہے۔

عمران خان بیرونی قرضوں کے خلاف رہے ہیں۔ ایک بار انھوں نے کہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف سے قرضہ مانگنے کے بجائے خودکُشی کرنا بہتر سمجھیں گے۔

تاہم پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی کمی نے اور بیرونی ادائیگیوں اور آمدن کی کمی کی وجہ سے انھیں مجبور ہونا پڑ رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی مدد حاصل کریں۔

اب جبکہ آئی ایم ایف سے پاکستان کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے، پاکستان اپنی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے عرب اتحادی ممالک اور دیرینہ دوست چین کی مدد سے اب تک دس ارب ڈالرز کے قرضے یا تو حاصل کرچکا ہے یا ان کے انتظامات کرچکا ہے۔

پاکستان کی کمزور مالیاتی حالات اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ مالی ساکھ کو ماپنے والی بین اقوامی ریٹنگ ایجینسی موڈیز نے پاکستان کے بینکاری کے نظام کی ریٹنگ کم کردی ہے۔

انھوں نے اس کی وجہ ان بینکوں کے پاس سرکاری بانڈز کی تعداد بڑھ جانے کو بتایا ہے جس کی وجہ کم شرح سود پر ان بانڈز کو خریدنا ہے۔

موڈیز کا کہنا ہے کہ دسمبر سنہ 2017 سے لے کر فروری سنہ 2019 تک پاکستانی روپہ کی قیمت امریکی ڈالرز کے مقابلے میں تیس فیصد گری جبکہ اسی دوران شرحِ سود 450 بیسِس پوائینٹ بڑھی ہے۔

اس کے علاوہ افراطِ زر میں اضافہ ہوا ہے اور یہ وہ تمام باتیں ہیں جو سرمایہ کار کے اعتماد کو کمزور کرتی ہیں۔

اس سے پہلے ایک اور ریٹنگ ایجنیس سٹینڈرڈ اینڈ پُؤر بھی پاکستان کی ریٹنگ کو یہ کہتے ہوئے کم کرچکا ہے کہ اقتصادی شرخ نمو کم ہے اور بیرونی ادائیگیاوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎