وہ طریقے جو نیند کے دوران توند کی چربی گھلانے میں مدد دیں

لگ بھگ سب اس سے متفق ہیں کہ ورزش جسمانی وزن میں کمی اور صحت مند رہنے کا بہترین ذریعہ ہے، مگر کیا ہم روزانہ ورزش کرتے ہیں؟


مگر ہم روزانہ نیند کے مزے ضرور لیتے ہیں تو توند سے نجات کا اس سے بہترین طریقہ کیا ہوسکتا ہے جو ہم سونے کے دوران اختیار کرسکتے ہیں؟

جی ہاں واقعی کچھ طریقوں کی مدد سے آپ حقیقی معنوں میں نیند کے دوران توند کی چربی گھلاسکتے ہیں۔

سونے کے لیے بستر پر جانے سے قبل 30 گرام پروٹین پر مبنی شیک پینا توند سے تیزی سے نجات دلاتا ہے، طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ اس عادت کے نتیجے میں نیند کے دوران زیادہ کیلوریز جلانے میں مدد ملتی ہے، پروٹین مسلز کی مرمت میں بھی معاونت فراہم کرتا ہے اور مسلز کا حجم جتنا زیادہ ہوگا، نیند کے دوران کیلوریز اتنی ہی زیادہ جلیں گی۔

رات کے وقت زیادہ مقدار میں کھانے سے گریز کریں اور سونے سے کچھ دیر پہلے مت کھائیں۔ نیند کے دوران ہمارا دماغ نشوونما کرنے والا ایک ہارمون خارج کرتا ہے، تو اگر آپ سونے سے کچھ دیر پہلے ہی کھانا کھائیں گے تو یہ ہارمون غذا کو ایندھن بنانے کی بجائے چربی کی شکل میں ذخیرہ کرلے گا۔

مانیں یا نہ مانیں مگر 7 سے 8 گھنٹے کی نیند اچھی صحت کے لیے ضروری ہے اور روزمرہ کی مصروفیات کے باعث یہ کافی مشکل کام لگتا ہے۔ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند جسم کو زیادہ چربی گھلانے میں مدد دیتی ہے، امریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن میں شائع ایک تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا کہ اچھی نیند لینے والے افراد کم سونے والوں کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ کیلوریز جلاتے ہیں۔

ورزش ضرور کریں مگر سونے سے کچھ دیر پہلے ایسا کرنا نیند کا حصول مشکل بناسکتا ہے، ورزش کو صبح یا شام کو کرنے کی کوشش کریں بلکہ صبح زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس سے جسم کو دن بھر کے لیے توانائی ملتی ہے، تاہم اگر کسی وجہ سے صبح ممکن نہ ہو تو بھی سونے سے کم از کم 4 گھنٹے پہلے کرنے کی کوشش کریں۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اسمارٹ فون یا ٹیبلیٹ سے خارج ہونے والی نیلی روشنی نیند کے لیے مدد فراہم کرنے والے ہارمون میلاٹونین بننے کے عمل کی روک تھام کرتی ہے۔ ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ رات کو سونے سے قبل زیادہ دیر تک ٹی وی دیکھنا جسم میں ٹرائی گلیسڈرز کی سطح بڑھاتا ہے جو کہ ذیابیطس کا خطرہ بڑھانے کے ساتھ گلوکوز لیول کو مستحکم رکھنے والے ایک پروٹین کی سطح کم کرتا ہے۔

یہ نہیں کہ سرد موسم میں بغیر کمبل کے سو جائیں مگر کھڑکی کھلی رکھ کر کمرے کو کچھ ٹھنڈا کرنا توند کی چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے جو جسم خود کو گرم رکھنے کے لیے جلاتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے اائی کہ جو لوگ کچھ ٹھنڈے کمرے میں سوتے ہیں وہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ کیلوریز نیند کے دوران جلاتے ہیں۔

کمرے میں تاریکی کرکے سونا جسم کے اندر میلاٹونین بننے کے عمل میں معاونت کرتا ہے جو نہ صرف اچھی نیند میں مدد دیتا ہے بلکہ توند کی چربی گھلانے میں مدد دینے والے جز کو بناتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎