بلوچستان کے راستے اندرون و بیرون ملک سے تجارت پر ٹیکس عائد

بلوچستان اسمبلی نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ ایوان نے اندرون ملک اور بیرون ملک سے بلوچستان کے راستے لائی اور لے جائی جانے والی اشیا پر ایک فیصد کسٹم ٹیکس نافذ کرنے کا قانون بھی منظور کرلیا۔


ڈپٹی اسپیکر بابر خان موسیٰ خیل کی زیر صدارت بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر اطلاعات ظہور احمد بلیدی نے حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان کی جانب سے مشترکہ قرار داد پیش کی اور کہا کہ 2017 کی مردم شماری کے تحت نئی حلقہ بندی، نو سال سے جاری طویل خشک سالی اور بلوچستان کے 2010 کے بلدیاتی قانون میں اصلاحات متعارف کرانے کے تناظرمیں بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کیا جائے۔ حلقہ بندیوں کا کام بھی موخر کیا جائے تاکہ بلوچستان میں بلدیاتی نظام متفقہ اصلاحات کے نتیجے میں تشکیل دیا جاسکے۔

ظہور بلیدی نے کہا کہ پرانے قانون اور پرانی حلقہ بندیوں پر انتخابات کرانا عوام سے انصاف نہیں ہوگا۔ کوئٹہ میں بعض بلدیاتی حلقے ایسے بھی ہیں جن کی آبادی ایک ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس حوالے سے ہمیں کام کرنے کا موقع ملنا چاہئے تاکہ حقائق کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ 2010 کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں بھی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ بلدیاتی اداروں کو مزید اختیارات بھی دینے کی ضرورت ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے بھی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہر صوبے کا یہ اختیار ہے کہ وہ مقامی حکومتیں تشکیل دے جبکہ الیکشن کمیشن کا کام ان کے انتخابات کرانے ہیں لیکن انتخابات کے لئے قانون سازی ہماری ہی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے منتخب ہونے کے بعد نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم لانے کا اعلان کیا اور اس سلسلے میں ٹاسک فورس بھی بنائی جس کا مقصد مقامی حکومتوں کے نظام سے خامیاں دور کرکے نظام کو حقیقی معنوں میں لوکل گورنمنٹ کا نظام بنانا ہے۔ بلوچستان کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ بھی نئی اصلاحات کے ساتھ بلدیاتی نظام لاسکے۔ انہوں نے انتخاباتی اخراجات سے بچنے کیلئے پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات ایک ساتھ کرانے کی بھی تجویز دی۔اے این پی کے پارلیمانی لیڈر اصغر اچکزئی نے قرارداد کی حمایت کی۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے نے قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی کہ اگست میں اقتدار سنبھالتے ہی محکمہ لوکل گورنمنٹ اور محکمہ قانون کے ساتھ مل کر 2010 کے ایکٹ میں اصلاحات لانے کے لئے کام شروع کرتی مگر اس میں صوبائی حکومت نے سست روی کا مظاہرہ کیا۔ اب صوبائی حکومت مزید وقت ضائع کئے بغیر وقت مقررہ پر بلدیاتی انتخابات کرائے۔

اجلاس میں پارلیمانی سیکریٹری بشریٰ رند نے وزیرخزانہ کی عدم موجودگی میں بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی محصول (بلوچستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ) کا مسودہ پیش کیا جس کی ایوان نے متفقہ طور پر منظوری دیدی۔ اس نئے قانون کے تحت بلوچستان سے ریل، سڑک، فضائی یا سمندری راستے سے ملک لائی جانے والی یا بیرون ملک لے جائی جانے والی اشیا پر ٹیکس عائد ہوگا۔ اس ٹیکس کے ذریعے صوبے کے انفرا اسٹرکچر کی ترقی، بہتری اور دیکھ بھال کے وسائل اکٹھے کئے جاسکیں گے۔

قانون کے تحت بلوچستان سے کسی دوسرے صوبے یا کسی دوسرے ملک کوئی بھی اشیا لے جانے اور بلوچستان لانے والی کوئی بھی اشیاءچاہے وہ ریل گاڑی، ہوائی جہاز، سمندر ،سڑک یا کسی بھی راستے سے ترسیل کی جائے اس پر کل مقدار کے ایک فیصد کے حساب سے کسٹم ڈیوٹی عائد ہوگی۔ ٹیکس ادا نہ کرنے کی صورت میں جرمانے بھی عائد کئے جائیں گے۔

مسودہ قانون پر بحث کے دوران حزب اختلاف کی جماعت بی این پی کے رکن اسمبلی ثناء بلوچ نے کہا کہ مسودہ قانون میں چند نکات تشریح طلب ہیں جن پر کام کرتے ہوئے اسے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے محصولات میں اضافے کے حق میں ہیں۔ محصولات میں اضافے سے اسلام آباد کی گداگری کرنے میں کمی آئے گی۔ ایسا نہ ہو کہ مسودہ قانون میں شامل تشریح طلب نکات کی آڑ میں بلوچستان کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ مکران سمیت بلوچستان کے بعض علاقوں میں ضروریات کی اشیا کراچی اور دیگر علاقوں سے لائی جاتی ہیں ان پر ٹیکس عائد ہونے سے لوگوں کو مشکلات پیش آئیں گی۔

وزیراعلیٰ جام کمال نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں یہ قانون چند سال قبل ہی منظور ہوچکا ہے۔ کراچی پورٹ پر جو بھی اشیاءآتی ہیں، سندھ حکومت اس پر امپورٹ ٹیکس لیتی ہے۔ ہم بھی اب ایک فیصد امپورٹ ٹیکس لیں گے جس سے ہمارے محاصل میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صرف بیرونی ممالک سے اندرون ملک آنے والی اشیا پر ٹیکس عائد ہوگا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎