ارشاد رانجھانی قتل: پولیس کی تحقیقات پر اہلخانہ کا عدم اعتماد

کراچی میں جیے سندھ قومی تحریک کے رہنما ارشاد رانجھانی کی مقامی سیاستدان کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور مظاہروں کا سلسلہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔


سندھ میں گذشتہ تین روز سے قوم پرست جماعتوں کی جانب سے اس معاملے پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

کراچی سے لے کر شکارپور تک ہونے والے ان مظاہروں میں جیے سندھ کے مختلف دھڑوں کے علاوہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور قومی عوامی تحریک کے کارکن بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملیر سمیت دیگر شہروں میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا۔

پیر کو کراچی کی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک شاہراہِ فیصل پر اس سلسلے میں قوم پرست جماعتوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے دھرنا بھی دیا۔

دھرنے میں موجود ارشاد رانجھانی کے بھائی کا دعویٰ ہے کہ ان کے بھائی کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے ’یکطرفہ‘ رپورٹ تیار کی ہے۔ انھوں نے پولیس پر ملزم عبدالرحیم شاہ کی سرپرستی کا الزام بھی عائد کیا۔

کراچی پولیس یونین کونسل لانڈھی کے چیئرمین عبدالرحیم شاہ کو اس معاملے میں گرفتار کر چکی ہے۔ انھیں ارشاد رانجھانی کے قتل میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔

پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سندھ کے وزیرِ بلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ حکومت نے مذکورہ چیئرمین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے علاوہ متعلقہ تھانے کے اہلکاروں کو بھی غفلت برتنے پر معطل کیا جائے گا۔

ارشاد رانجھانی کون تھے؟

ارشاد رانجھانی کا تعلق دادو سے تھا۔ وہ سکول میں جیے سندھ تحریک کی ذیلی تنظیم لیگ سنگت کے رکن تھے۔ بعد میں وہ بینظیر بھٹو کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کی تنظیم سے وابستہ رہے اور کچھ عرصہ ممتاز بھٹو کی تنظیم فرنٹ کی ذیلی تنظیم سناف کے رکن رہے۔

سنہ 2010 سے وہ جیے سندھ قومی محاذ کے رکن تھے اور جب جیے سندھ قومی محاذ کے رہنما صفدر سرکی نے اس سے عیلحدگی اختیار کی تو ارشاد بھی ان کے ساتھ جیے سندھ تحریک میں شامل ہوگئے اور انھیں تنظیم کی جانب سے کراچی ڈویژن کا صدر مقرر کیا گیا۔

ارشاد کے بھائی منور رانجھانی کا کہنا ہے کہ وہ کل وقتی سیاسی ورکر تھے تاہم دادو میں تھوڑا بہت جائیداد کی خریدوفروخت کا کام بھی کرتے تھے۔

عبدالرحیم شاہ کون ہیں؟

رحیم شاہ کا تعلق لکی مروت سے ہے وہ گذشتہ کئی سالوں سے کراچی کی بھینس کالونی میں مقیم ہیں، جہاں سے دو بار یونین کونسل کے چیئرمین منتخب ہوچکے ہیں۔

ان کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے وہ یہاں بھینسوں کے دودھ کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔

گذشتہ عام انتخابات میں انھوں نے قومی اسمبلی کے حلقہ 238 سے انتخابات کے لیے مسلم لیگ ن سے ٹکٹ کے لیے درخواست دی تھی تاہم یہ ٹکٹ شاہ محمد شاہ کو دے دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ارشاد رانجھانی کے قتل کا واقعہ چھ فروری کو پیش آیا لیکن بعد میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک زخمی خون میں لت پت ہے جبکہ پاس ہی ایک پستول موجود ہے۔

سفید کپڑوں میں ایک شخص کی آواز آ رہی ہے کہ ایک آدمی اور ہے اس کے ساتھ ’یہ ڈکیت ہے، ڈکیت‘۔

ساتھ ہی مجمعے سے پشتو میں آواز آتی ہے کہ رحیم شاہ لالہ ہے۔ وہ لوگوں کو بتاتے ہیں کہ یہ مجھے گولی مار رہا تھا میں نے گولی مار دی۔ بعد میں اس نوجوان کی شناخت ارشاد رانجھانی کے نام سے ہوئی۔

پولیس نے جائے وقوع پر پہنچنے کے بعد زخمی کو تھانے منتقل کر دیا جس کے دوران اس کی حالت تشویشناک ہوگئی اور ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی وہ ہلاک ہو گیا۔

سڑک پر زخمی ارشاد کی ویڈیو اور تصاویر کے ساتھ فیس بک اور ٹوئٹر پر جسٹس فار ارشاد رنجھانی ٹرینڈ بن کر ابھر آیا۔

بختاور بھٹو، بشریٰ گوہر، سینیٹر سسئی پلیجو، ایم این اے نفیسہ شاہ، پی ایس پی کے رہنما رضا ہارون اور سماجی کارکن جبران ناصر سمیت ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے سرعام قتل کی مذمت کی اور رحیم شاہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

ساتھ میں یہ بھی سوال اٹھایا گیا کہ امل عمر بل کا کیا ہوا جس کے تحت زخمی کو فوری ہسپتال پہنچا کر علاج کروانا چاہیے تھا۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک خط لکھ کر واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا اس کے علاوہ آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ اعلیٰ افسر کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی کہ ریاست کے اندر ریاست قائم کرے اور ہاتھ میں اسلحہ اٹھائے کس شخص کو ڈاکو قرار دے کر ہلاک کر دے‘۔

ڈئی آئی جی عامر فاروقی کا ابتدائی موقف تھا کہ رحیم شاہ بینک سے پیسہ نکال کر آ رہے تھے کہ دو افراد نے رحیم شاہ کو پستول دکھا کر رقم حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جس پر انھوں نے اپنے دفاع میں ارشاد پر فائر کیا۔

رحیم شاہ کا موقف تھا کہ انھوں نے پولیس کو واقعے کے بارے میں آگاہ کیا لیکن ٹریفک کی وجہ سے پولیس تاخیر سے پہنچی اور زخمی کو ہسپتال کے بجائے تھانے لے گئی۔

عبدالرحیم شاہ کی گرفتاری

پولیس نے پیر کو رحیم شاہ کو گرفتار کیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر امیر شیخ کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں کمیٹی کی سفارش پر رحیم شاہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ارشاد رانجھانی کسی جرم میں ملوث تھے تو انھیں زخمی کرنے کے بعد ہسپتال منتقل کرنا لازمی تھا۔ ڈی آئی جی عامر فاروقی کا کہنا ہے کہ واقعہ رقم چھیننے پر پیش آیا۔

دوسری جانب ارشاد کے بھائی منور رانجھانی کا کہنا ہے کہ انھیں پولیس کی تحقیقات پر اعتماد نہیں ہے کیونکہ پولیس زخمی کو ہسپتال نہ لے جاکر بھی ہلاکت میں ملوث رہی ہے لہذا ان کا مطالبہ یہی ہے کہ عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جو تحقیقات کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ قانونی مشورے کر رہے ہیں جس کے بعد قتل کی ایف آئی آر درج کروائی جائے گی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎