دولتِ اسلامیہ: ’خلافت‘ کے خاتمے کا مطلب کیا تنظیم کا خاتمہ بھی ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان جلد متوقع ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام کو مکمل طور پر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے قبضہ سے چھٹکارا دلاتے ہوئے 2014 میں قائم ہونیوالی نام نہاد خلافت کا خاتمہ کر دیا ہے۔


شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ایک وقت میں مغربی شام سے لے کر مشرقی عراق تک 88000 مربع کلومیٹ کے وسیع علاقے پر قابض تھی۔ جہاں اس نے تقریباً 80 لاکھ افراد پر بہیمانہ طریقے سے حکمرانی کرنے کے ساتھ ساتھ تیل کے ذخائر، بھتہ خوری، راہزنی اور اغوا برائے تاوان سے اربوں ڈالر کمائے تھے۔

اب خیال کیا جاتا ہے کہ عراق سے متصل شامی سرحد کے قریب دریائے فرات کی وادی میں تقریباً 50 مربع کلومیٹر علاقے میں ان کی تعداد کم ہو کر 1000 سے 1500 کے درمیان رہ گئی ہے جنھیں کرد ملیشیا کی قیادت میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کا اتحاد نشانہ بنا رہا ہے۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی ظاہری خلافت ختم ہو جانے کے باوجود یہ منظم اور سخت جنگی قوت ثابت ہوئی ہے اوراس کی مستقل شکست پر کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔

امریکی فوج کے سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے پانچ فروری کو کہا تھا کہ 'بکھری اور منقسم دولت اسلامیہ کے خلاف، جو اب بھی جنگجو، سہولت کار، رہنما، وسائل اور برا نظریہ رکھتی ہے، ایک چوکنا دفاع قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔'

جنوری میں فوجی افسران نے امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کو بتایا تھا کہ اگر اس تنظیم پر دباؤ برقرار نہ رکھا گیا 'تو اگلے چھ ماہ سے ایک سال کے عرصے میں شدت پسند دولت اسلامیہ دوبارہ سے شام میں کھڑی ہو سکتی ہے اور دریائے فرات کی وادی میں محدود علاقے پر قابض ہو سکتی ہے۔'

تاہم اس طرح کے انتباہات شام سے امریکی فوجیوں کی واپسی کو روکنے کے معاملے میں صدر ٹرمپ کو قائل کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔ یہ وہ فیصلہ تھا جو امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کے فوری استعفے کی وجہ بنا اور جس نے دولت اسلامیہ کے خلاف عالمی اتحاد کو بھی پریشان کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے سات فروری کو سکیورٹی کونسل میں پیش کی جانیوالی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ عراق میں جہاں حکومت دسمبر 2017 میں آزادی کا اعلان کر چکی ہے یہ شدت پسند تنظیم 'ایک خفیہ نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ تنظیم تغیر، موافقت، استحکام اور انجماد کے عمل سے گزر رہی ہے اور یہ صوبائی سطح پر منظم ہو رہی ہے اور وہاں قیادت سے متعلق کلیدی امور نمٹائے جا رہے ہیں۔‘

دولت اسلامیہ کے عسکریت پسند دوردراز دیہی علاقوں میں زیادہ متحرک ہیں جہاں کا کٹا پھٹا علاقہ ان کو حملوں کی منصوبہ بندی اور نقل و حرکت کی آزادی دیتا ہے۔

ان علاقوں میں انبار اور نینوا صوبوں کے صحراؤں کے علاوہ وہ پہاڑی سلسلہ شامل ہے جو کرکوک، صلاح الدین اور دیالہ صوبوں تک پھیلا ہوا ہے۔

سیکریٹری جنرل گوٹیرس کے مطابق 'یہ گروہ حکومتی رٹ کو کمزور کرنے کے لیے سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، لاقانونیت کا ایک ماحول بنا رہا ہے، معاشرتی مصلحت کو تباہ کرنے کے ساتھ تعمیرنو اور انسداد دہشت گردی کے لیے اٹھائے گیے اقدامات کی لاگت میں اضافہ کر رہا ہے۔'

ان کارروائیوں میں اغوا برائے تاوان، مقامی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ اور ریاستی اداروں ہر حملے شامل ہیں۔

شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے نیٹ ورک کے بارے میں خدشہ یہی ہے کہ وہ بتدریج عراق میں موجود تنظیم سے مماثلت اختیار کر لے گا۔

دولت اسلامیہ کے جنگجو دریائے فرات کی وادی کے ساتھ ساتھ شمال مغربی صوبے ادلب اور دارالحکومت دمشق کے جنوبی علاقوں اور بادیہ کے جنوب مشرقی صحرائی علاقوں میں بھی موجود ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کے مطابق 'تنظیم دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے پاس بھاری ہتھیار بھی موجود ہیں، اور وہ ملک بھر میں بم حملے اور قتل کی وارداتیں کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔'

اس تنظیم کے رہنماؤں کے پاس 'کمانڈ اینڈ کنٹرول‘ کی کمال صلاحیت موجود ہے۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کہاں ہیں کوئی نہیں جانتا اور چھپنے کی کم جگہیں ہونے کے باوجود وہ گرفتاری یا مارے جانے سے بچے ہوئے ہیں۔

دولت اسلامیہ اپنی مجرمانہ سرگرمیوں سے مسلسل پیسہ کما رہی ہے۔ یہ چندہ بھی لیتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق یہ مدد 50 ملین ڈالر سے 300 ملین ڈالر نقد کے درمیان ہے۔

انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ دولت اسلامیہ کو خاطر خواہ نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن اب بھی اطلاعات کے مطابق شام اور عراق میں اس سے وابستہ جنگجوؤں میں تین ہزار غیرملکیوں سمیت 14 سے 18 ہزار شدت پسند شامل ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ اسے ان دونوں ممالک میں بچ جانے والے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی کل تعداد کا علم نہیں ہے۔

جولائی 2018 میں امریکہ کی سربراہی میں عالمی اتحاد کی جانب سے یہ بتایا گیا تھا کہ عراق میں 15 سے 17 ہزار جبکہ شام میں 13 سے 14 ہزار شدت پسند موجود ہیں۔ البتہ امریکی کمانڈرز نے بعدازاں یہ کہا تھا کہ انھیں ان اعدادوشمار پر زیادہ اعتبار نہیں ہے۔

شامی فوج نے دولت اسلامیہ کے 800 غیرملکی جنگجوؤں کو گرفتار کیا ہے اور اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان غیر ملکی عسکریت پسندوں سے منسلک 400 سے 500 خواتین اور 1000 سے زائد بچے بھی ان کی حراست میں ہیں۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ تقریباً 1000 غیر ملکی عسکریت پسند عراق کی جیلوں میں قید ہیں۔

امریکہ نے شامی فوج سے قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے لیکن ان کے آبائی ممالک نے دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کو واپس لینے اور عدالتی مقدمات کے لیے ناکافی ثبوت جمع کرنے جیسے مسائل پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق تقریباً 40 ہزار غیرملکی عسکریت پسندوں نے جنگ میں حصہ لینے کے لیے شام اور عراق کا سفر کیا تھا۔

اب بھی لڑائی میں حصہ لینے کے لیے سفر کرنے والوں کی کل تعداد کا علم نہیں ہے تاہم لوگوں کا اب یہ عمل بہت حد تک کم ہوا ہے۔ عالمی اتحاد نے اندازہ لگایا ہے کہ اب یہ تعداد ایک ماہ میں 50 افراد تک محدود ہو گئی ہے جبکہ اکتوبر 2017 تک 5600 سے زائد جنگجو اپنے ملکوں میں واپس بھی چلے گئے تھے۔

دولتِ اسلامیہ سے منسلک جنگجوں کی خاصی تعداد افغانستان، مصر، لبیا، جنوب مشرقی ایشیا اور مغربی افریقہ میں موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں صومالیہ، صحرائے سینا کے علاقوں اور ساحل میں ان کی موجودگی کم ہے۔ اس گروہ کے نظریے سے متاثر افراد نے دنیا کے مختلف حصوں میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ تنظیم عراق میں، القاعدہ کے اندر سے بنی تھی۔ اسے 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد سنی عرب جنگجوؤں نے بنایا اور یہ ملک میں مزاحمتی تحریک کا اہم حصہ بن گئی تھی۔

2011 میں اس تنظیم کا نام 'اسلامک سٹیٹ ان عراق' (آئی ایس آئی) تھا اور یہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف ہونے والی بغاوت کا حصہ بن گئی جہاں ان کو محفوظ ٹھکانے اور ہتھیاروں تک آسان رسائی مل گئی۔

اسی وقت انھوں نے امریکی افواج کے عراق سے انخلا اور ملک کی شیعہ حکومت کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کی وجہ سے سنی شہریوں میں موجود غصے کا فائدہ اٹھایا۔

2013 میں آئی ایس آئی نے شام کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا اور اس کے بعد اپنا نام تبدیل کر کے 'اسلامک سٹیٹ ان عراق اینڈ لیونٹ' (آئی ایس آئی ایس) رکھ لیا۔

اس سے اگلے سال آئی ایس آیی ایس نے عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں پر قبصہ کر لیا اور اپنی خلافت کے قیام کا اعلان کر دیا جس کو 'دولت اسلامیہ' کہا جاتا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نےسنہ 2014 میں عراق کے اندر دولت اسلامہ کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کی تھی۔ یہ اس وجہ سے ہوا کیونکہ آئی ایس آئی ایس نے عراق میں کرد اقلیت کے زیر انتظام علاقوں پر حملہ کر کے ہزاروں کی تعداد میں یزیدی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو غلام بنانا اور قتل کرنا شروع کر دیا تھا۔

’اسلامک سٹیٹ‘ (آئی ایس) کے خلاف لڑائی بہت خونی رہی ہے۔ اس میں ہزاروں جانوں کا ضیاع ہوا اور لاکھوں لوگ اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

شام میں روس کے فضائی حملوں اور ایران کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کی مدد سے بشارالاسد کی فوج نے ان جہادیوں کے ساتھ مقابلہ کیا۔

عراق میں مقامی سکیورٹی فورسز کو امریکہ کی قیادت میں لڑنے والی اتحادی افواج اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا دونوں کی مدد حاصل رہی ہے۔

امریکہ کے اتحادیوں میں آسٹریلیا، بحرین، فرانس، اردن، نیدرلینڈز، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ شامل ہیں۔ انھوں نے سنہ 2014 میں آئی ایس کے خلاف عراق میں بمباری شروع کی اور اس سے ہی اگلے مہینے میں شام میں بھی بمباری شروع کر دی گئی تھی۔

اس قت سے اب تک اتحادی افواج نے 33 ہزار سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔

روس اس اتحاد کا حصہ نہیں ہے لیکن اس نے بشار الاسد کی حکومت کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ستمبر 2015 میں شام میں نام نہاد 'دہشت گردوں' کے خلاف فضائی بمباری شروع کر دی تھی۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق سنہ 2015 کے بعد سے انھوں نے 39 ہزار فضائی حملے کیے جن میں ایک لاکھ 21 ہزار 'دہشت گردوں کے ٹھکانوں' کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ان میں پانچ ہزار دو سو سے زیادہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند مارے گئے۔

امریکی اتحاد کی مہم کی ابتدائی کامیابیوں میں دسمبر 2015 میں عراقی افواج کا صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی پر دوبارہ قبضہ شامل تھا۔

جولائی 2017 میں عراق کے دوسرے سب سے بڑے شہر موصل سے بھی آئی ایس کو نکال دیا گیا تھا۔ اس کو اتحادیوں کے لیے بڑی کامیابی سمجھا گیا۔ لیکن دس مہینے کی اس جنگ میں ہزاروں عام شہری لقمہ اجل بن گئے جبکہ آٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔

اکتوبر 2017 میں ایس ڈی ایف نے اتحادیوں کی مدد سے شام میں نام نہاد 'خلافت' کے دارالحکومت رقہ پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ یہ شہر تین سال سے آئی ایس کے قبضے میں تھا۔

اس سے اگلے مہینے میں شامی افواج نے مغربی شہر دیرالزور کا پورا کنٹرول حاصل کر لیا جبکہ عراقی فورسز نے اہم سرحدی علاقے القائم کو اپنے قبضے میں لے لیا۔

آئی ایس کے خلاف جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں کی کل تعداد تاحال واضح نہیں ہے۔

برطانیہ میں قائم 'دی سیریئن اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق 2011 میں شام میں خانہ جنگی کی ابتدا سے ابھی تک ایک لاکھ گیارہ ہزار تین سو تیس شہریوں سمیت تقریباً تین لاکھ اڑسٹھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق سنہ 2014 سے عراق میں دہشت گردی، تشدد اور مسلح تصادم کے واقعات کے نتیجے میں کم از کم 30912 شہری ہلاک ہوئے ہیں تاہم عراق باڈی کاؤنٹ کا، جو کہ دانشوروں اور امن کے کام کرنے والے کارکنوں کی تنظیم ہے، کہنا ہے کہ شہری ہلاکتوں کی تعداد 70 ہزار ہے۔

اس خانہ جنگی میں کم از کم 66 لاکھ شامیوں نے ملک کے اندر نقل مکانی کی جبکہ 56 لاکھ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ 35 لاکھ شامیوں نے ترکی میں پناہ لی ہوئی ہے جبکہ تقریباً دس لاکھ لبنان اور سات لاکھ اردن میں ہیں۔

بہت سارے شامیوں نے یورپ میں پناہ لی ہے اور سب سے زیادہ پناہ گزین جرمنی میں ہیں۔

عراق میں دسمبر 2013 کے بعد ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ بےگھر ہونے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے کم ہوئی ہے۔

'انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن' کے اندازے کے مطابق ستمبر 2018 کے بعد سے تقریباً چار لاکھ بےگھر لوگ اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں۔

لیکن اقوام متحدہ کی اطلاعات کے مطابق روزگار کی کمی، املاک کی تباہی اور سرکاری سہولیات تک کی محدود رسائی کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں کو واپس نہیں جا رہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎