آئی ایم ایف: علاج یا مرض الموت؟

لاہور: ( روزنامہ دنیا) دبئی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملاقات میں اس نکتے پر مکمل اتفاق کیا گیا، پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈال کر معاشرے کے پسماندہ طبقات کے مفادات کو تحفظ فراہم کر کرنا ہوگا اور اس کیلئے بنیادی ساخت میں گہری اور دوررس اثرات کی حامل اصلاحات ناگزیر ہیں۔


کرسٹین لیگارڈ نے بھی اس امر سے اتفاق کیا کہ پاکستانی معیشت کو سخت حالات کا سامنا کرنے کے قابل بنانے کی غرض سے اصلاحات کا مضبوط پیکیج ضروری ہے اور اس سے ملک میں عمومی معیار زندگی پائیدار انداز سے بلند کرنے کی جاسکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے آئی ایم ایف پاکستان کی بھرپور مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے لیے کئی ارب ڈالر کے پیکیج کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔ مگر کیا عمران خان جانتے ہیں کہ ایم ڈی آئی ایم ایف نے مشکلات میں گھرے ہوئے یونان کے سابق وزیر خزانہ یانس ویروفاکس سے کیا کہا تھا ؟ جب یانس ویروفاکس نے 2010 میں آئی ایم ایف، یورپین سینٹرل بینک اور یونان کے درمیان طے پانے والے 1000 بلین یورو کے قرضے کی شرائط نرم کرنے پر زور دیا تھا تو کرسٹین لیگارڈ نے کہا تھا کہ آپ درست کہتے ہیں۔ جو اہداف مقرر کیے گئے ہیں وہ یقینی طورپر حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ جرمن وزیر خزانہ ولف گینگ شبل نے تسلیم کیا کہ دوا کارگر ثابت نہ ہوگی مگر بہر کیف یہ دوا دینی تو ہے۔ (یانس ویرو فاکس کے بیان کے مطابق) جرمن وزیر خزانہ نے کہا کہ ایک محب وطن کے طور پر بالکل نہیں۔ یہ آپ کے لوگوں کے لیے بہت بری ہے۔

یانس ویرو فاکس کو یقین تھا کہ سرکاری اخراجات میں کمی اور بالخصوص صحت و تعلیم کے شعبے میں سبسڈی ختم کرنے کی شرائط پر عمل سے یونان کی ترقی پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یونان کے ووٹرز نے بھی خاصے بڑے مارجن سے اس پیکیج کو مسترد کر دیا تاہم اس کے باوجود وزیر اعظم سپرس نے برسلز کی طرف سے عائد کی گئی شرائط سے بھی سخت شرائط منظور کرلیں۔ سابق یونانی وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم نے معمول ترک نہیں کیا یعنی میری تمام باتوں سے متفق بھی ہوئے اور بالکل متضاد نتائج بھی اخذ کرتے رہے۔ یہ سب کچھ یانس ویروفاکس نے اپنی تازہ ترین کتاب ‘‘ایڈلٹس ان دی روم’’ میں بیان کیا ہے۔ یانس ویروفاکس نے یونان کی وزارت خزانہ محض 6 ماہ سنبھالی تاہم اس دوران انہیں کم و بیش روزانہ ہی آئی ایم ایف اور یورپی اداروں سے محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ حکومت کی طرف سے ذلت آمیز رویے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر یانس ویروفاکس نے استعفٰی دے دیا۔ کیوں؟ انہیں اس بات کا پختہ یقین تھا کہ یونان کی بیمار معیشت کو دیا جانے والا بیل آؤٹ پیکیج دراصل فرانس اور جرمنی کے بینکوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کی کوشش ہے۔ ان بینکوں نے (یونان کے دارالحکومت) ایتھنر کو جو سینکڑوں ارب ڈالر کے قرضے دیئے تھے وہ غائب ہوگئے تھے۔ اور یورپین سینٹرل بینک کے قوانین کے تحت حکومتوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی گئی تھی کہ مالیاتی اداروں کو بچانے کے لیے کچھ کریں یا ڈوبے ہوئے قرضے مرکزی مالیاتی اداروں کو منتقل کریں۔

جرمن حکومت کہتی ہے کہ یانس ویروفاکس نے بہت چالاکی سے آئی ایم ایف کو ہٹایا تاکہ یہ تاثر ملے کہ یورپی یونین کے ایک رکن سے اظہار یکجہتی کے لیے بین الاقوامی پیکیج دیا گیا ہے اور پھر اس پیکیج کو یونان پر مسلط کر دیا گیا۔ ویروفاکس نے عالمی سطح پر کام کرنے والے بینکوں، کثیر القومی کارپوریشنز، حکومتوں اور آئی ایم ایف جیسے سپر نیشنل اداروں کو سپر بلیک باکس قرار دیا ہے جو ایسے انتہائی با اثر سیاست دان اور بیورو کریٹس چلا رہے ہیں جو زر، قرضوں، ٹیکس اور ووٹوں کو منافع، پیچیدہ قرضوں، بہبود کے لیے خرچ کی جانے والی رقوم میں کٹوتی اور صحت و تعلیم عامہ جیسے شعبوں کے لیے سبسڈی ختم کرنے کے حوالے سے غیر معمولی مہارت کے حامل ہیں۔ یہ بلیک باکس طاقت کے ایک ایسے نیٹ ورک کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں جو سسٹم کے انسائڈر کی حیثیت سے کام کرنے والے سی ای اوز پر مشتمل ہیں۔ یہ سی ای اوز طے کرتے ہیں کہ کنسلٹنٹ کی حیثیت سے کام کرنے والے کن ماہرین معاشیات اور ٹیکنو کریٹس کے ساتھ کام کیا جائے اور جن سے اس سسٹم کو ذرا بھی خطرہ لاحق ہو انہیں نکال باہر کیا جائے ۔ یونان کے سابق وزیر خزانہ کی کتاب کے مطالعے کے دوران آپ کو چند ماہ کے دوران پاکستان میں آئی ایم ایف کے حوالے سے کی جانے والی گفتگو میں خاصی مماثلت دکھائی دے گی۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو پاکستانی معیشت کو لاحق بیماریاں دور کرنے کے حوالے سے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا مشورہ دیتے رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب، یو اے ای اور چین سے ملنے والے قرضے بہت سستے اور کسی شدید منفی شرط کے بغیر ہیں۔

آئی ایم ایف سے قرضے لینے کی مخالفت کرنے والے ماہرین معاشیات کی تعداد خاصی کم ہے۔ یانس ویروفاکس کی کتاب اسی موضوع پر شائع ہونے والی ایک معیاری کتاب ‘‘کنفیشنز آف این اکنامک ہٹ مین’’ کی بھی یاد دلاتی ہے۔ اس کتاب کے مصنف جان پرکنز نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف اور اسی نوعیت کے دیگر ادارے دراصل ترقی پذیر معیشتوں کو مالیات کے حوالے سے غلام بنانے کے لیے ہیں۔ قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے ہاتھوں ترقی پذیر ممالک بالآخر اپنی خود مختاری سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اور کیا ہم بھول گئے ہیں کہ کس طرح امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے آئی ایم ایف کے ذریعے اپنے ملک کا تسلط برقرار رکھنے کے حوالے سے انتباہ کیا تھا۔ جولائی 2018 میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں پومپیو نے کہا تھا کہ کوئی غلطی مت کیجیے کیونکہ آئی ایم ایف پاکستانی معیشت کی بحالی اور زر مبادلہ کے کم ہوتے ہوئے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے 12 ارب ڈالر کے جس پیکیج پر کام کر رہا ہے اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا قرضوں کا پیکیج اتنا نقصان دہ نہ ہو جتنا یونان کے معاملے میں تھا تاہم محتاط رہنے اور معاملات پر نظر رکھنے کی یاد دہانی کرانے میں کوئی حرج نہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎