سابق بھارتی جج کی ’گائے رکھشکوں‘ پر پھر تنقید

بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج اور پریس کونسل آف انڈیا کے سابق چیئرمین جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے ایک بار پھر گئو رکھشکوں پر تنقید کی ہے۔


اتر انچل یونیورسٹی ڈھیرا دون میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکنڈے کاٹجو کا کہنا ہے کہ جو گائے کو ماتا مانتے ہیں ان کے دماغ میں گوبر بھرا ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا گائے کا گوشت کھاتی ہے،میں گائے کو دیگر جانوروں کی طرح ہی جانور سمجھتاہوں، کیرالہ میں میں نے بھی بیف کھایا تھا۔

واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکنڈے کاٹجو اس سے قبل بھی گائے کے رکھشکوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

انہوں نے گائے کی رکھشا کے نام پر معصوم مسلمانوں کے قتل کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے مسلمانوں کے خلاف مودی حکومت کے اقدامات اور گائے کی حفاظت کے نام پر مسلمانوں کے قتل پر ماضی میں اپنے بیان میں مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ سرکار کا دماغ خراب ہوگیا ہے، ملک میں پاگل پن چل رہا ہے، چار سال کے دوران دنیا بھر میں ہندوستان کی ناک کٹوا دی۔

نوئیڈا میں مسلمانوں کو پارکس میں نماز جمعہ پڑھنے سے روک دیا گیا تھا جس پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مرکنڈے کاٹجو نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو کھلے میدان میں نماز کی ادائیگی سے روکنا بھارتی آئین کی خلاف ورزی ہے، جب راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کھلے پارکس میں اپنے اجتماع کرسکتی ہے تو مسلمانوں کیوں نماز نہیں پڑھ سکتے؟

سابق جج نے یہ بھی کہا تھا کہ لوگ گائے کی پوجا پر اس کے لیے لڑنے اور جان تک لے لینے پر ہم پر ہنستے ہیں، گائے بھی گھوڑے اور کتے کی طرح جانور ہی ہے، اس میں کوئی ایسی خاص بات نہیں کہ اُسے پوجا جائے، گائے کی پوجا کرنا احمقانہ حرکت ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎